.

قبر میں اتارے جانے سے قبل مصری پولیس افسرپھر زندہ ہوگیا

میجر محمد الحسینی کو مردہ قرار دے کر تدفین کی تیاریاں مکمل کرلی گئی تھیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصرمیں گولیاں لگنے سے مبینہ طور پرجاں بحق قرار دیا گیا ایک پولیس افسر اچانک دوبارہ زندہ ہوگیا جس پر لوگ حیران ہیں۔ یہ واقعہ حال ہی میں مصر میں اس وقت پیش آیا جب ایک پولیس اہلکار کی تدفین کی تیاری مکمل کی جاچکی تو طبی عملے نے اس کا آخری معائنہ کرتے ہوئے اس کی رپورٹ مرتب کرنے کی کوشش کی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق جمعہ کل جمعہ کو نہر سویز یونیورسٹی کے ڈاکٹروں نے ابو صویر انویسٹی گیشن پولیس سینٹر کے میجر محمد الحسینی کو گولیاں لگنے سے مردہ قرار دیا تھا۔ الحسینی اسماعیلیہ کے مقام پر جیل سے فرار ہونے والوں کی گولیوں کا نشانہ بنا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگیا۔ بعد ازاں اسے اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا۔

میجر محمد الحسینی کے اہل خانہ کو بھی اس کی موت کی اطلاع دی گئی۔ سرکاری سطح پر اس کی تدفین کی تیاریاں کی جا رہی تھیں۔ پولیس اہلکار کو گولیاں مقامی وقت کے مطابق دن دو بجے لگیں تاہم شام سات بجے اس کی تدفین کا اعلان کیا گیا۔ جب تدفین کی تیاریاں مکمل کردی گئیں تو ڈاکٹروں نے اس کے آخری معائنے کے بعد رپورٹ بنانے کے لیے ’مقتول‘ کی نبض دیکھی تواس کا دل دھڑکنے کے ساتھ دماغ بھی کام کررہا تھا۔ اس پر سب لوگ حیران رہ گئے جس شخص کو کئی گھنٹے سے مردہ قرار دیا جا رہا تھا وہ دوبارہ کیسے زندہ ہوگیا۔

اسماعیلیہ ڈاریکٹوریٹ کے ایک پولیس افسر نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ میجر محمد الحسینی کی حالت تشویشناک ہے مگر انہیں امید ہے کہ وہ جلد ہی صحت یاب ہوجائیں گے۔

قصر العینی میڈیکل کالج کے استاد ڈاکٹرسلیمان غریب نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے اس منفرد واقعے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کسی شخص کو طبی طور پر مردہ قرار دیا جائے اور دوبارہ زندہ ہوجائےتاہم اس طرح کے کیسز بعض اوقات سامنے آبھی جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بعض اوقات دل کی دھڑکن اس قدر کمزور ہوتی ہے کہ اسے محسوس نہیں کیا جاسکتا۔ نیز خون کی گردش اس رفتار سے نہیں ہو رہی ہوتی جس رفتار سے ایک زندہ اور صحت مند شخص کی ہوتی ہے۔ اس لیے لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ شخص مر گیا ہے۔ دل کی دھڑکن بہت کمزور ہونے کے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ شخص فوت ہوگیا ہوتا ہے۔ مذکورہ پولیس افسر کے کیس میں بھی بہ ظاہر ایسا لگتا ہے کہ ان کے خون کی گردش بہت کمزور تھی جس کے نتیجے میں ان کی نبض چلتی محسوس نہیں ہوئی۔ خون کی گردش نہ ہونے کے نتیجے میں دماغ کو خون فراہم نہیں ہو رہا تھا، اس لیے دماغی طور پر بھی اسے مردہ قرار دیا گیا تھا، جب دوبارہ نبض چیک کی گئی تو اس کے دل کی دھڑکن بہتر ہوگئی تھی اور خون کی گردش سے دماغ کو بھی خون پہنچ رہا تھا جس کے نتیجے میں اس کا دماغ بھی کام کرنے لگا تھا۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز اسماعیلیہ گورنری میں المستقبل جیل میں رکھے گئے قیدیوں نے اجتماعی فرار کی کوشش تھی جسے ناکام بنا دیا گیا تھا۔ اس موقع پر گولیاں چلنےسے متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو مصر کے ایک سیکیورٹی ذریعے نے بتایا کہ جیل پر باہر سے مسلح حملہ کیا گیا تھا۔ مشتبہ ملزمان متعدد قیدیوں کو چھڑا کر لے گئے تھے، محمد الحسینی ان کا تعاقب کرنے نکلے تو ان پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوگئے تھے۔