.

شاہ عبدالعزیز نے شامیوں سے کیا کہا تھا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گزشتہ صدی میں 1950ء کی دہائی میں مملکت سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز آل سعود نے شام کے عوام کو سامراج کے بعد یکجہتی اختیار کرنے اور ملک کو تقسیم ہونے سے بچانے کے لیے کام کرنے کی نصیحت کی تھی۔ اس بات کا ذکر معروف لکھاری مشاری الذایدی نے گزشتہ جمعے کے روز عربی روزنامے "الشرق الاوسط" میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں کیا جس کا عنوان تھا "شامیوں کے لیے عبدالعزیز کی نصیحت"۔

مذکورہ نصیحت سعودی عرب کے ایک پرانے روزنامے "اخبار الظهران" کی 26 دسمبر 1954 (یعنی نومبر 1953 میں شاہ عبدالعزیز کی وفات کے ایک برس بعد) کی اشاعت میں بھی نمودار ہو چکی ہے۔

اخبار کے مطابق " شاہ عبدالعزیز آل سعود نے دوسری جنگ عظیم میں مصر کا دورہ کیا اور وہاں شامی صحافیوں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہ میں شامیوں کے بارے میں یہ سنتا تھا کہ وہ ایسی قوم ہیں جو باتیں بہت کرتی ہے مگر کسی ایک رائے پر متفق نہیں ہوتی۔ میں ہمیشہ سے اس قول کی مخالفت کرتا تھا کیوں کہ میں اس حقیقت کو جانتا ہوں کہ دمشق عرب تحریک کا منبع ہے لہذا آپ لوگوں پر لازم ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہیں، اب یہ وقت استحکام کا وقت ہے"۔

شاہ عبدالعزیز کا مزید کہنا تھا کہ "میں نے 25 برس صحراؤں اور بنجر بیابانوں میں گزارے۔ میں نے زندگی کی مشقتوں اور تلخ تجربوں سے بہت کچھ حاصل کیا۔ میں نے تلواروں اور خنجروں کے اتنے واروں کا سامنا کیا کہ میری نظر میں کلمہ حق کی بلندی اور خود مختاری کے پرچم کو اونچا کرنے کے سامنے زندگی کی کوئی حیثیت نہ رہی"۔ (اس موقع پر سعودی مملکت کے بانی نے معرکوں میں مسخ ہوجانے والی اپنی ایک انگلی کی جانب اشارہ کیا اور اپنے جسم پر تلواروں اور خنجروں کے متعدد نشانات بھی دکھائے)۔

اس وقت شاہ عبدالعزیز نے شامیوں کو مخاطب کرتے ہوئے دو ٹوک انداز میں کہا کہ "اے شام کے باسیو! اگر میں تم لوگوں کو یکجہتی اور مل کر کام کرنے کے لیے زور دے رہا ہوں تو ایسا تمہارے وطن کی خاطر کر رہا ہوں ، شام کی خاطر.. یقین کر لو کہ مجھے شام پر حکمرانی کی کوئی طمع نہیں بلکہ میں اس کو مکمل طور پر ایک خود مختار ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتا ہوں۔ میری تم لوگوں کو صرف یہ نصیحت ہے کہ یکجہتی کے ساتھ کام کرو.. یہ بالعموم عربوں کے لیے اور بالخصوص شام کے لیے ہے۔"

مشاری الذایدی نے بتایا کہ شام اس وقت سامراج کے مرحلے سے گزر رہا تھا اور اس دوران سیاسی جماعتوں اور گروپوں کے اختلافات کے زیر سایہ خود مختاری اور تقسیم کے مطالبات سامنے آرہے تھے۔ جہاں تک موجودہ صورت حال کا تعلق ہے تو اس وقت بشار حکومت، روس، ایران اور اس کے پیروکار اور داعش تنظیم کے جرائم کے بیچ شام کو منصبوں، نمائندگی اور رسوخ پر رقابت سامنا ہے۔