ایران : بچوں سے بدفعلی کے مرتکب وی آئی پی قاری کا کیس عدلیہ کے سپرد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایران میں بچوں سے جنسی زیادتی کے مرتکب وی آئی پی قاری سعید طوسی کے خلاف کیس کو ایک ماہر جج کی عدالت میں سماعت اور فیصلے کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔قاری طوسی پر انیس بچوں سے بدفعلی کا الزام ہے۔

ایرانی عدلیہ کے ترجمان غلام حسین محسنی اعجئی نے تہران میں سوموار کے روز ایک نیوز کانفرنس میں سعید طوسی کے خلاف کیس عدالت میں بھیجنے کی اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ عدالت نے ملزم کے خلاف بدعنوانیوں کی وکالت پر فرد الزام عاید کردی ہے۔اس کے خلاف چار متاثرین نے درخواست دائر کی تھی۔

ایرانی عدلیہ کے ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے قاری طوسی کے خلاف کیس کی کھلے عام سماعت نہیں کی جائے گی۔اصلاح پسندوں کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاسداران انقلاب کور سعید طوسی کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے تاکہ ملکی قیادت کی شہرت کو داغ دار ہونے سے بچایا جاسکے اور اس اسکینڈل کا بھی خاموشی سے خاتمہ کیا جاسکے۔

سعید طوسی نے دو روز قبل جاری کردہ ایک بیان میں اپنے خلاف عاید کردہ تمام الزامات کی تردید کی تھی۔اس کے بعد عدالتی دستاویزات اور ان کی جنسی ہوس کا شکار ہونے والے بچوں کے آڈیو بیانات کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی گئی ہے۔ان بچوں نے اپنے اس تلذذ پسند استاد پر الزام عاید کیا تھا کہ وہ بیرون ملک قرآت کے بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کے دوران ان سے بدفعلی کرتا رہا تھا۔

اصلاح پسندوں کے ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ قاری سعید طوسی نے اپنے خلاف مقدمے کی صورت میں ایران کے ایک سو اعلیٰ عہدے داروں کے نام افشاء کرنے کی دھمکی دی ہے جو اس کے بہ قول بچوں سے جنسی زیادتی کے مرتکب ہوتے رہے تھے۔

چھیالیس سالہ سعید طوسی ایران کی جانب سے حسن قرآت کے متعدد بین الاقوامی مقابلوں میں نمائندگی کرچکے ہیں اور انھوں نے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر ان مقابلوں میں اوّل انعامات جیت رکھے ہیں۔وہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مقرب خاص بتائے جاتے ہیں۔ان پر گذشتہ برسوں کے دوران میں بارہ سے چودہ سال کی عمر کے انیس بچوں سے جنسی زیادتی کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں