.

کم عمر سعودی خاتون خلائی سائنسدان سے ملیے!

مشاعل الشمیمری نے تسخیر کائنات کا مشن کیسے جاری رکھا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلاء کے بارے میں جستجو اور کائنات کی وسعتوں سے متعلق سوالات تو ہر شخص کے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں مگر بہت کم لوگ ان سوالوں کا کھوج لگانے کو اپنا مشن قرار دے کراس میدان میں نکل پاتے ہیں۔ خلائی تحقیقات کے میدان کی ایک نوجوان سعودی مسافر مشاعل الشمشیری ہیں۔ انہوں نے خلاء اور کائنات کی وسعتوں کے بارے میں جانکاری کو اپنا مشن بنایا اور آج اسے مملکت ہی میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں خلائی جہاز اور راکٹ کا انجینیر قرار دیا جا رہا ہے۔

مشاعل کے سفر کا آغاز

مشاعل کی ابتدائی زندگی کافی مشکلات کا شکار رہی۔ اس کا کہنا ہے کہ اس کی والدہ کی عمر 40 سال تھی، جب والد نے اسے طلاق دے دی۔ اس وقت ان کا خاندان امریکا میں تھا۔ وہاں اس نے انگریزی زبان میں تعلیم پائی مگر بعد ازاں اپنی مادری عربی زبان میں بھی گہرا رسوخ پیدا کیا۔

جب اس کی عمر محض چھ سال تھی، اس کے ذہن میں ستاروں، رات، تاریکی اور کائنات میں موجود دیگر اجرام فلکی کے بارے میں طرح طرح کےسوالات جنم لینے لگے۔ وہ اپنے آپ ہی سے سوال پوچھتی کہ یہ کیا ہے؟ یہ کیسے ہوا؟ مگر اسے کوئی واضح جواب نہ ملتا کیونکہ اس کے تمام سوالوں کا جواب سائنسی علوم میں پنہاں تھا۔ اس کی ہمشیرہ نے بعض سوالات کے جوابات میں اس کی مدد کی۔ بہن نے ایک کاغذ کو ہوا میں اچھالا۔ ورق اڑنے لگا۔ ورق کے ہوا میں اڑنے سے مشاعل نے اپنے خلائی تجربات کا آغاز کیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے مشاعل کا کہنا تھا کہ اس نے کئی ایسے آلات کو استعمال کرنے کی کوشش کی تاکہ اسے اس اندھیری دنیا کے رازوں سے پردہ اٹھانے میں مدد مل سکے۔

تعلیم اور تبدیلی کا عمل

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے مشاعل الشمیمری نے کہا کہ امریکا میں قیام اور تعلیم کے دوران اس سائنسی علوم وفنون کی جانب اس کا میلان رہا۔ اس دوران اس نے مصنوعی ٹانگ تیار کرنے کے دو مقابلوں میں حصہ لیا۔ پہلے مقابلے میں وہ 80 شرکاء کے ساتھ مقابلے میں حصہ لیا اور پہلی پوزیشن حاصل کی اور دوسرے مقابلے میں 400 افراد شامل تھے جس میں اس نے تیسری پوزیشن حاصل کی تھی۔

میٹرک کے بعد مشاعل نے یونیورسٹی میں خلائی انجینیرنگ کا شعبہ چنا۔ جہاں دو اقسام کی خلائی تحقیقات پر اسے کام موقع ملا۔ پہلے شعبے میں اسے یہ بتایا گیا کہ زمین کے گرد کوئی چیز ہوا میں کیوں تیرتی ہے جب کہ دوسرے میں زمین سے باہر خلاء میں تیرنے والی چیزوں کی ماہیت کے بارے میں معلومات فراہم کی گئیں۔

مشاعل نے انکشاف کیا کہ یونیورسٹی کی تعلیم کے حصول میں ریاست فلوریڈا کی طرف سے اسے اسکالرشپ دیا گیا۔ اسکالرشپ سے کل اخراجات کا 75 فی صد ادا ہوا جب کہ 25 فی صد رقم قرض حاصل کرکے ادا کی گئی۔

یونیورسٹی کے دوران اس کی ایک استانی نے اسے ریاضی کی ڈگری لینے کی بھی تجویز پیش کی۔ اس نے اپنی استانی کی تجویز پر ریاضی بھی پڑھی اور سنہ 2006ء میں اس نے حساب کی ڈگری بھی حاصل کرلی تھی۔

خلائی ایجنسی ناسا کی طرف سے وظیفہ

یونیورسٹی کی تعلیم کے دوران مشاعل نے ’ایم ایس سی‘ میں تھرمو نیوکلیئرراکٹ ڈیزائن پر تحقیق کی۔ اس دوران امریکا کی خلائی تحقیقاتی ایجنسی ناسا نے مشاعل کی تعلیم میں اس کی مدد کی۔ چنانچہ اس نے ناسا کی طرف سے ملنے والے اسکالر شپ سے اپنی بقیہ تعلیم مکمل کی۔

ماسٹر سطح کی تعلیم میں بھی وہ بہ یک وقت دو جماعتوں میں تعلیم حاصل کررہی تھی۔ آخر کار اس نے 2007ء میں خلائی انجینیرنگ میں ایم ایس سی کرلیا۔

عملی زندگی کا آغاز

تعلیم مکمل کرنے کے بعد مشاعل الشمیمری نے ایک دفاعی کمپنی ’’ریویان‘‘ میں ملازمت شروع کی۔ اس کمپنی کے ساتھ کام کے دوران مشاعل نے 22 میزائلوں کے ڈیزان تیار کیے۔ سنہ 2010ء میں مشاعل نے ملازمت ترک کرکے 26 سال کی عمر میں اپنی ایک کمپنی قائم کی اور 2011ء میں راکٹ سازی کا کام شروع کیا۔ اس کا ہدف ایک ایسا راکٹ تیار کرنا تھا جو کسی چھوٹے مصنوعی سیارے کو کرہ زمین کے نچلی سطح تک پہنچا سکے۔

مشن میں درپیش مشکلات

خلائی تحقیقات اور راکٹ سائنس مشاعل الشمیمری کے لیے کوئی آسان راستہ نہ تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ والدین کے درمیان علاحدگی کا فیصلہ بھی اس کی تعلیم پر اثر انداز ہوا۔ والدہ کو طلاق کے بعد اس کے لیے فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ وہ ماں کے ساتھ سعودی عرب میں قیام کرے یا والد کے ساتھ امریکا میں رہے جہاں خلائی سائنس کےشعبے میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنی کمپنی قائم کرے۔

آخر کار امریکا میں قیام کا فیصلہ کرنا پڑا۔ تعلیم کے حصول کے بعد اسے ’’ریویان‘‘ دفاعی کمپنی میں بھی کئی مشکلات پیش آئیں۔ ایک سرمایہ کار کی مدد سے اس نے اپنی دفاعی کمپنی تو لانچ کردی مگر اس کے اخراجات اتنے زیادہ تھے کہ انہیں پورا کرنا مشکل ہو رہا تھا۔ اس دوران کئی بار انہیں اپنےملازمین کو تنخواہوں کی ادائی میں مشکلات پیش آئیں۔ سنہ 2014ء میں راکٹ کی تیاری کے عمل میں کئی ملازمین ساتھ چھوڑ گئے۔ بعض نے بغیر تنخواہ ہمارے ساتھ کام جاری رکھا اور آخر کار ہم راکٹ کا تجربہ کرنے میں کامیاب ہوئے۔