.

فلسطینی خاتون وکیل ہم صنفوں کے حقوق کے لیے میدان عمل میں !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی خاتون وکیل ریما شمسنح اپنی ہم صنف فلسطینی خواتین کے طلاق سے متعلق مقدمات کی مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں قائم ایک اسلامی عائلی عدالت میں پیروی کرتی ہیں۔عدالت میں ایک مرد کی گواہی دو عورتوں کے برابر شمار کی جاتی ہے،اس لیے اس خاتون وکیل کی کامیابی کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں مگر اس کے باوجود وہ اپنی جدو جہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔

وہ ایک سہانی صبح ایک نوجوان نرس کے طلاق کے کیس میں عدالت میں پیش ہوئیں۔یہ نرس اپنے ٹرک ڈرائیور خاوند سے طلاق لینا چاہتی تھی کیونکہ وہ اس کے بہ قول اس کو مارتا پیٹتا تھا،گرما گرم چائے میں کوئی نشہ آور دوائی ملا دیتا تھا اور نرس کو اس کی قریب المرگ والدہ کی دیکھ بھال بھی نہیں کرنے دیتا تھا۔

یہ دکھیاری عورت جب طلاق کے لیے عدالت پہنچی تو اس کا خاوند صرف اس شرط پر اس کو طلاق دینے پر آمادہ ہوا کہ وہ تمام نان ونفقہ سے دستبردار ہوجائے گی اور نکاح نامے میں طلاق کی صورت میں لکھی چودہ ہزار ڈالرز کی رقم کا بھی تقاضا نہیں کرے گی۔

اس نرس نے اپنا بیٹا پانے اور تشدد پسند خاوند سے گلو خلاصی کے لیے یہ تمام شرائط منظور کر لیں۔چنانچہ وہ شخص کمرا عدالت میں قرآن مجید کا نسخہ لیے کھڑا ہوا اور ایک اسلامی جج کے روبرو اس نے اپنی بیوی کو مخاطب کرکے کہا کہ '' میں تمھیں طلاق دیتا ہوں''۔

اس موقع پر انتالیس سالہ ریما شمسنح کی آنکھوں میں خوشی اور رنج کے آنسو رواں تھے۔انھوں نے خود کو سنبھالا اور یوں گویا ہوئیں: ''یہ کوئی بڑی فتح نہیں ہے۔میں نے اس کو وہ دلایا ہے جو وہ چاہتی تھی لیکن اس کے ساتھ میں خوش نہیں ہوں کیونکہ وہ اپنے حقوق سے دستبردار ہوگئی ہے''۔

دوسری خواتین کے لیے جدوجہد

سرپوش اور روایتی برقع میں ملبوس ریما مقبوضہ فلسطینی علاقے میں دوسری عرب خواتین کے حقوق کے لیے میدان عمل میں ہیں اور وہ ان کی زندگی کے سب سے اہم اور نازک مسئلے یعنی شادی اور طلاق کے کیسوں میں ان کی پیروی کرتی ہیں۔

تیونس اور مراکش ایسے ملکوں نے اپنے ہاں اصلاحات متعارف کرائی ہیں لیکن دوسرے ملکوں میں اب بھی دلھنوں کی کسی کیس کی صورت میں ان کے وہی مرد سرپرست پیروی کرتے ہیں جنھوں نے نکاح ناموں یا شادی کے کاغذات پر دستخط کیے ہوتے ہیں۔ریما کے بہ قول مرد تو ایک لمحے میں عورت کو طلاق دے سکتا ہے لیکن عورت کو مرد سے علاحدگی یا خلع کے لیے وجہ بیان کرنا پڑتی ہے جبکہ مرد کو ایک سے زاید شادیوں کی بھی اجازت ہے۔

ان مسائل کے ہوتے ہوئے بھی رائے عامہ مردوں کے حق میں ہے۔اس حوالے سے سنہ 2013ء میں پیو ریسرچ سنٹر نے ایک سروے کرایا تھا۔اس کے نتائج کے مطابق سات عرب ملکوں میں مردوں کی اکثریت کا کہنا تھا ایک عورت کو اپنے خاوند کی اطاعت کرنی چاہیے۔لبنان میں 74 فی صد ، فلسطینی علاقوں میں 87 فی صد اور تیونس میں 93 فی صد رائے دہندگان نے اپنی اسی رائے کا اظہار کیا تھا۔

فلسطین کی کالعدم پارلیمان میں حماس کی رکن مریم صالح کا کہنا تھا کہ ''ہم مغربی قوانین کی نقالی نہیں کرسکتے کیونکہ مغربی معاشرے مختلف ہیں اور وہ بہت سے پیچیدہ مسائل سے دوچار ہیں''۔

لیکن مریم شمسنح نے ایک مختلف رائے کا اظہار کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ یہ قوانین اس لیے ایسے دکھتے ہیں کہ انھیں مردوں نے منظور کیا تھا۔یہ جن معاشروں اور ثقافتوں میں منظور کیے گئے تھے،ان میں یہ کہا جاتا ہے کہ مرد عورتوں سے بہتر ہیں اور اس امر کی ان کے قوانین سے عکاسی ہوتی ہے۔

مریم شمسنح کے والد محمد ایک ریٹائرڈ کنٹریکٹر ہیں۔وہ اپنے تمام بچوں کو تعلیم دلانا چاہتے تھے۔ان کی خواہش تھی کہ ان کی بچیاں بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کریں۔مریم نے قانون کے پیشے کا انتخاب کیا کیونکہ یہ ان کے طبعی تجزیاتی رجحان کے عین مطابق تھا۔

مریم کی چوہتر سالہ والد آمنہ بھی ان کے ساتھ ہی بیٹھی تھیں۔ان کا کہنا تھا کہ انھیں ان کی بیٹی کی کامیابیوں پر فخر ہے مگر مریم نے ان کی بات کاٹتے ہوئے کہا کہ والدہ ان کی تعلیم کی مخالف تھیں۔تاہم آمنہ بی بی نے معذرت خواہانہ انداز میں کہا کہ ''اس وقت یہ بہت شرمناک بات تھی کہ ایک عورت تعلیم بھی حاصل کرے اور پھر اس کو ملازمت بھی کرنی چاہیے''۔