.

سونا مہلک مرض سرطان کا تریاق ہو سکتا ہے : سعودی محقق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سونے کو دولت ،طاقت اور خوب صورتی کی علامت سمجھا جاتا ہے لیکن ایک سعودی محقق کے بہ قول اب یہ صحت کی علامت بھی بن جائے گا۔

سعودی عرب میں ڈاکٹر سعید الجرودی سونے کے مرکبات کو سرطان (کینسر) کے علاج کے طور پر استعمال کرنے کے لیے تجربات کررہے ہیں۔ انھوں نے العربیہ کو بتایا ہے کہ ''سونے کے مرکبات کا مستقبل قریب میں کینسر کے علاج کے لیے استعمال بڑا مفید ثابت ہورہا ہے''۔

انھوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ''سونے کے مرکبات کو سرطان کے علاج کے طور پر استعمال کرنے کے لیے گذشتہ بیس سال سے تحقیق کی جارہی ہے۔کینسر سے متاثرہ چوہوں پر اس کے تجربات کیے گئے ہیں اور اب تک اس کے نتائج حوصلہ افزا رہے ہیں''۔

ڈاکٹر سعید جرودی نے پہلے اپنی لیبارٹری میں یہ تجربات کیے ہیں۔انھوں نے بتایا ہے کہ دو اور مراحل میں اس کے جانوروں اور پھر انسانی معمولوں پر تجربات کیے جائیں گے اور اس میں مزید دس سے پندرہ سال لگ سکتے ہیں۔

وہ کینسر کے علاج کے لیے سونے کے مرکبات کو ایک متبادل کے طور پر متعارف کرانے کی کوشش کررہے ہیں۔اس سے پہلے کینسر کے علاج کے لیے دوا کیسپلیٹن گذشتہ چالیس سال سے استعمال کی جارہی ہے مگر اس کے بہت سے ضمنی اثرات بھی ہیں۔

ڈاکٹر سعید نے بتایا :''اس کا ایک ضمنی اثر تو یہ ہے کہ اگر کینسر کا کوئی مریض علاج جاری رکھتا ہے تو کینسر کے سیل اس دوا کے عادی ہوجاتے ہیں اور یوں یہ غیر مؤثر ہوجاتی ہے۔اس کے مقابلے میں سونے کے مرکبات زیادہ مؤثر ہیں''۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ ''سونے کا مرکب قریباً صفر فی صد زہرناکی خاصیت کا حامل ہوتا ہے اور اس کے انسانی جسم پر کوئی منفی اثرات نہیں ہوتے ہیں۔کینسر کے سیلوں میں سونے کے مرکبات کی مزاحمت کرنے کی کوئی صلاحیت بھی نہیں ہوتی ہے''۔

اس وقت کیسپلیٹن کینسر کے مہلک مرض میں مبتلا مریضوں کے علاج کے لیے ایک اہم دوا کے طور پر زیر استعمال ہے۔یہ پلاٹینم پر مبنی ہے اور کیموتھراپی کے دوران یہ استعمال کی جاتی ہے۔ڈاکٹر سعید جرودی کا کہنا ہے کہ پلاٹینم پر مبنی دوائیں سونے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہنگی ہیں۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ سونے کے مرکبات کے استعمال کے بھی کچھ نقصانات ہیں لیکن اس کے باوجود وہ اس کے دوا کے طور پر استعمال کے حوالے سے پُرامید ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ''سونے کے مرکبات غیر مستحکم ہیں اور اب محققین ایسے مرکب کی تیاری پر اپنی توجہ مرکوز کررہے ہیں جو مستحکم ہوں''۔