.

ایک عراقی نے سرعام سعودی کو تھپڑ رسید کردیا،پھر کیا ہوا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک عراقی نوجوان رعد الحیدری کو اپنے ملک میں پائی جانے والی فرقہ وارانہ تقسیم کو جانچنے کا اچھوتا خیال آیا ہے اور اس نے سوشل میڈیا پر ایک منفرد تجربہ کیا ہے۔ اس نے اس تجربے میں ایک سعودی سیاح کو معمول بنایا ہے اور اس کو محض راستہ پوچھنے پر تھپڑ رسید کردیا جاتا ہے۔

دراصل وہ یہ دکھانا چاہتا ہے کہ جنوبی شہر کربلا میں سعودی سیاحوں کے ساتھ کم وبیش روزانہ ہی اس طرح کے ناروا سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور عراقی انھیں سڑکوں اور بازاروں میں ہراساں کرتے ہیں۔

رعد الحیدری نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''ہم نے سوشل میڈیا پر دیکھا ہے کہ وہاں بہت سے لوگ فرقہ وارانہ منافرت اور تقریر کو بروئے کار لا رہے ہوتے ہیں۔ہم نے ایک تجربے کے طور پر اس آئیڈیا پر عمل کیا ہے تاکہ ایک بڑے سماجی مسئلے کو اجاگر کیا جاسکے''۔

اس ویڈیو میں ایک سعودی سیاح ایک شخص کی جانب بڑھا چلا آرہا ہے اور وہ اس سے نزدیک پہنچ کر علاقے کی سمت کے بارے میں دریافت کرتا ہے۔ یہ شخص بھی دراصل اس تجرباتی ٹیم کا حصہ ہے اور وہ اس سعودی سے پوچھتا ہے کہ وہ کہاں سے آیا ہے تو وہ اس کو جواب میں بتاتا ہے کہ وہ ایک خلیجی عرب شہری ہے۔یہ سننے کے بعد وہ شخص اس سعودی کو تھپڑ رسید کردیتا ہے اور پھر اس کو ہراساں کرتا ہے۔

اس لمحے بعض عراقی نوجوان واقعے کی فلم بناتے ہوئے آ جاتے ہیں۔وہ مثبت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے سعودی کا دفاع کرتے ہیں اور ان میں بعض یہ کہتے ہوئے سنے جا سکتے ہیں کہ فرقہ واریت عراق کی نمائندہ نہیں ہے۔رعد کا کہنا ہے کہ ''ہمیں اس ویڈیو پر اچھا ردعمل ملا ہے اور ہمیں امید ہے کہ ہمارے کام سے فرق پڑے گا''۔