.

معروف ایرانی علماء کی فاحشہ عورتوں کے ساتھ نازیبا تصاویر کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے ایک سخت گیر عالم جعفر شجونی کی ذاتی زندگی سے متعلق ان کی وفات کے کوئی دو ہفتے کے بعد ایک نیا اسکینڈل منظرعام پر آیا ہے۔

اس اسکینڈل کا انکشاف واشنگٹن سے تعلق رکھنے والے فارسی میڈیا ذرائع نے کیا ہے اور اس نے ان کی 1970ء کے عشرے کی بعض نازیبا تصاویر جاری کی ہیں۔ ان میں علامہ شجونی اپنے بستر پر نامعلوم فاحشہ عورتوں کے ساتھ نیم برہنہ لباس میں نظر آرہے ہیں۔

علامہ شجونی ایرانی پارلیمان کے سابق رکن بھی رہے تھے۔دو ہفتے قبل ان کی وفات پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے بھی تعزیت کا اظہار کیا تھا اور انھیں ان کی سیاسی و دینی خدمات پر بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا تھا۔

ایک اور سخت گیر ایرانی عالم محمد تقی فلسفی کی بھی اسی طرح کی تصاویر جاری کی گئی ہیں اور وہ بھی ایک فاحشہ عورت کے ساتھ ملوّث پائے گئے ہیں۔علامہ شجونی نے اپنی وفات سے مہینوں قبل ان تصاویر کی صحت سے انکار کیا تھا اور انھیں جعلی قرار دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ تصاویر 1979ء میں انقلاب سے قبل شاہ ایران کے تحت انٹیلی جنس ایجنسی نے بنائی تھیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ علامہ تقی فلسفی کی عورتوں کے ساتھ تصاویر اصلی تھیں۔

انھوں نے الزام عاید کیا تھا کہ یہ فاحشہ عورتیں ایران کی خفیہ پولیس ساواک کے لیے کام کررہی تھیں۔جب ان سے صحافی نے یہ سوال کیا تھا کہ کیا ان کی فاحشہ عورت کے ساتھ تصاویر جعلی اور من گھڑت ہیں تو انھوں نے مسکراتے ہوئے اس کے جواب میں یہ کہا تھا کہ ''ان شاء اللہ یہ جعلی ثابت ہوں گی''۔

فارسی امریکی چینل کو مبینہ طور پر یہ قابل اعتراض تصاویر سابق شاہ ایران محمد رضا پہلوی کے تحت کام کرنے والی انٹیلی جنس ایجنسی کے ایک سابق اہلکار نے مہیا کی تھیں۔