.

ننھی سعودی سائنسدان کی انوکھی ایجاد

کادی الضویحی کے تیار کردہ قلم سے ٹوٹی ہڈیوں کی نشاندہی ممکن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی ایک 10 سالہ طالبہ نے ایک منفرد قلم ایجاد کیا ہے جس کی مدد سے جسم میں ٹوٹی ہڈیوں کی نشاندہی کی جاسکےگی۔ کم سن ہونے کے باوجود سعودی بچی نے سائنس کے میدان میں کئی اہم خدمات انجام دی ہیں اور عالمی سطح کے تمغے حاصل کرنا شروع کردیے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 10 سالہ کادی الضویحی نے حال میں ’’مسک گلوبل فورم‘‘ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے ایک ایسا قلم تیار کیا ہے جس کی مدد سے ٹوٹی ہڈیوں کی نشاندہی ممکن ہوسکے گی۔ ننھی سائنسدان کا کہنا ہے کہ روشنی اور ریڈیائی لہروں کے سسٹم سے تیار کردہ قلم جسم پر گھمانے سے نشاندہی کرے گا کہ آیا جس میں ہڈی کہاں سے کہاں سے ٹوٹی ہے۔

کادی الضویحی نے اپنی منفرد ایجاد کی بدولت کئی عالمی ایوارڈ بھی حاصل کیے ہیں۔ سائنس کے میدان میں کم عمری میں اتنا کمال حاصل کرنے پر اسے ملائیشیا میں منعقدہ Itex2016 نامی نمائش میں گولڈ میڈل جب کہ جنوبی کوریا میں منعقدہ Kiwi2016 نمائش کی طرف سے سلور میڈل سے نوازا گیا۔ کم سنی کے باوجود کادی الضویحی سنہ 2030ء میں آرتھوپیڈک سرجن بننے کا عزم لیے ہوئے ہیں۔

حال ہی میں ریاض میں ہونے والے ’’مسک گلوبل فورم‘‘ کے جس اجلاس میں کادی الضویحی نے شرکت کی اس میں 65 ملکوں کے 100 سے زاید نوخیز سائنسدانوں کو شریک کیا گیا تھا۔ کادی جب چھ سال کی تھی تو وہ چوتھی جماعت کی طالبہ تھی۔ اس وقت سے اس کے دل و دماغ میں کسی نئی ایجاد کی خواہش تڑپ رہی تھی۔ وہ بچوں کے کھلونوں کو کھول کر انہیں تیار کرنے کی کوشش کرتی۔ کادی الضویحی کے اس مقام تک پہنچنے میں اس کے والدین کا گہرا تعلق ہے جنہوں نے بچی کو اس کے شوق کے مطابق ہرطرح کی تعلیم فراہم کرنے کا موقع فراہم کیا۔