.

ٹرمپ نے اپنی صدارتی گاڑی میں کون سی خصوصیات طلب کی ہیں ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تنازعات سے بھرپور انتخابی مہم کے بعد اب ایسا نظر آ رہا ہے کہ امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی گاڑی بھی متنازعہ نوعیت کی ہو گی۔

برطانوی اخبار "ڈیلی میل" کی رپورٹ کے مطابق امریکی معروف کمپنی "جنرل موٹرز" آئندہ سال جنوری میں ٹرمپ کے وہائٹ ہاؤس میں داخل ہونے سے قبل صدارتی گاڑی کو تیار کر دے گی۔ امریکا کے 45 ویں صدر کی آمد و رفت کے لیے استعمال ہونے والی گاڑی کو " The Beast " کا نام دیا گیا ہے۔ ٹرمپ کی صدارتی گاڑی حفاظتی اقدامات کے لحاظ سے موجود صدر بارک اوباما کی "کیڈلاک" سے زیادہ خصوصیات کی حامل ہو گی۔ غالب گمان ہے کہ گاڑی پر سیاہ اور چاندی کا رنگ ہوگا۔

گاڑی کی لاگت 1.5 کروڑ ڈالر

اس سے قبل امریکی ٹی وی نیٹ ورک "فوكس نيوز" نے بتایا تھا کہ "جنرل موٹرز" کمپنی تین دہائیوں سے صدارتی گاڑی تیار کرنے کی ذمے داری انجام دے رہی ہے۔ کچھ عرصہ قبل آئندہ صدر کی گاڑی کی تیاری کے لیے کمپنی کو 1.5 کروڑ ڈالر ادا کر دیے گئے تھے۔

یاد رہے کہ وہائٹ ہاؤس کی ملکیت میں دنیا بھر میں 12 صدارتی گاڑیاں ہیں جو امریکی صدر کے دوروں کے دوران ان کی حفاظت کے لیے مخصوص ہیں۔ ان میں ہر ایک گاڑی کی قیمت تقریبا 15 لاکھ ڈالر ہے۔

صدر اوباما کے زیر استعمال موجودہ صدارتی گاڑی کا وزن تقریبا 8 ٹن ہے۔ اس کے دروازوں کی موٹائی تقریبا 8 انچ ہے اور ہر دروازے کا وزن "بوئنگ 747" طیارے کے دروازے کے برابر ہے۔ گاڑی کا اندرونی کیبن مکمل طور پر سِیل ہوتا ہے تاکہ کسی بھی کیمیائی یا حیاتیاتی حملے سے محفوظ رہا جا سکے۔

ہوا کے زہر آلود ہونے کی صورت میں ؟

گاڑی کی بیرونی ہوا کے زہر آلود ہونے کی صورت میں گاڑی کے اندر تازہ آکسیجن فراہم کرنے کا مکمل بندوبست کیا گیا ہے۔

گاڑی کے تمام شیشے بند رہتے ہیں جن کو کھولا نہیں جا سکتا ما سوا ڈرائیور کے خصوصی شیشے کے تاکہ وہ ضرورت پڑنے پر چُنگی وغیرہ کی ادائیگی کر سکے۔ گاڑی کے تمام شیشے بلٹ پروف ہیں اور ان پر کسی قسم کے دھماکا خیز مواد کا اثر نہیں ہوتا۔

جہاں تک صدارتی گاڑی کے ٹائروں کا تعلق ہے تو ان پر خصوصی مواد Kevlar کی تہہ چڑھائی گئی ہے تاکہ وہ پھٹنے سے محفوظ رہیں۔ تاہم اگر بد ترین صورت حال میں وہ کسی طرح پھٹ بھی گئے تو ٹائر کے فولادی رِم گاڑی کا توازن خراب نہیں ہونے دیں گے۔

ایندھن کی ٹنکی کو نشانہ بنانے کی صورت میں..

صدارتی گاڑی میں ایندھن کی ٹنکی کی بھی armor plating کی گئی ہے۔ یہ ایک خاص نوعیت کے جھاگ پر مشتمل ہوتی ہے جو براہ راست نشانہ بنائے جانے کی صورت میں بھی ٹنکی کو پھٹنے سے روک دیتا ہے۔

صدارتی گاڑی کو اعلی ترین کوالٹی کے 9 نائٹ ویژن کیمروں سے بھی لیس کیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ گاڑی میں GPS ٹریکنگ اور سیٹلائٹ کمیونی کیشن سسٹم بھی موجود ہیں تاکہ کسی بھی نوعیت کے حالات میں امریکی صدر کے بیرونی دنیا سے رابطے کو یقینی بنایا جا سکے۔

صدارتی گاڑی میں امریکی صدر کے بلڈ گروپ سے ملنے والے خون کی دو پوائنٹ مقدار ہمیشہ موجود رہتی ہے۔

علاوہ ازیں یقینی طور پر صدارتی گاڑی ہر طرح کے آگ بجھانے والے آلات ، ہتھیار ، نائٹ ویژن چشموں اور آنسو گیس چھوڑنے والے آلات سے لیس ہوتی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ کسی بھی نوعیت کے شورش زدہ حالات سے بحفاظت باہر نکلا جا سکے۔

یہ تو تھیں موجودہ صدر باراک اوباما کی صدارتی گاڑی سے متعلق خصوصیات.. تاہم اب نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آئندہ صدارتی گاڑی کی اضافی خصوصیات سامنے آنا باقی ہیں۔

اس موقع پر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ نئے صدر کی آمد کے بعد وہائٹ ہاؤس کی پرانی گاڑیاں کہاں جائیں گی ؟