.

میانمار : روہنگیا مسلمانوں کے 1000 سے زیادہ مکانات نذر آتش یا مسمار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

میانمار (برما) کی ریاست اراکان (راکھین) میں بدھ مت انتہا پسندوں نے 10 سے 18 نومبر تک روہنگیا مسلمانوں کے پانچ مختلف دیہات میں 800 سے زیادہ مکانوں کو نذر آتش یا تباہ کردیا ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے سوموار کو جاری کردہ ایک بیان میں بدھ متوں کی ان تازہ تباہ کاریوں کی اطلاع دی ہے جبکہ برما کے بارے میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے نے صورت حال قابو میں لانے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

ایچ آر ڈبلیو کا کہنا ہے کہ حالیہ سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ''جن تباہ شدہ مکانوں کا ریکارڈ جمع کیا گیا ہے، ان کی تعداد 1250 ہے''۔ تنظیم نے سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے ضلع مونغدا کے پانچ دیہات میں تباہ شدہ 820 مکانوں کی نشان دہی کی ہے اور ان کی قدرے تفصیل فراہم کی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے ایشیا میں ڈائریکٹر بریڈ ایڈمز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ان ہوشربا نئی سیٹلائٹ تصاویر سے روہنگیا کے دیہات میں تباہ کاریوں کی تصدیق ہوئی ہے اور اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں حکومت کی اعتراف کردہ جگہوں سے کہیں زیادہ مقامات پر تباہی ہوئی ہے''۔

انھوں نے کہا کہ روہنگیا کے پانچ دیہات میں بظاہر آتش گیر مادوں سے حملے ایک بہت سنگین معاملہ ہے اور برمی حکومت کو اس کی تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ ذمے داروں کے خلاف مقدمات چلائے اور انھیں قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرے۔اس قسم کی تحقیقات کو قابل اعتبار بنانے کے لیے اقوام متحدہ کی شمولیت بھی ضروری ہے''۔

روہنگیا میانمار کی مغربی ریاست اراکان (راکھین) میں آباد ہند آریائی لوگ ہیں۔ میانمار حکومت کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق ان کی تعداد گیارہ لاکھ کے لگ بھگ ہے لیکن انھیں بڑے منظم انداز میں سیاسی نمائندگی کے حق اور دیگر شہری حقوق سے محروم رکھا جارہا ہے۔ان کے دیہات پر بدھ متوں کے سکیورٹی فورسز کی سرپرستی میں وقفے وقفے سے حملے کیے جاتے ہیں اور ان کے خلاف فوجی کریک ڈاؤن بھی کیا گیا ہے جس کی وجہ سے وہ جانیں بچا کر پڑوسی ملک بنگلہ دیش کا رُخ کررہے ہیں۔

غیر مصدقہ اعداد وشمار کے مطابق میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی آبادی قریباً تیرہ لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ملک کی اکثریتی آبادی بدھ مذہب کی پیروکار ہے۔اس مذہب کے انتہا پسند ایک عرصے سے مسلمانوں سے انسانیت سوز سلوک کررہے ہیں۔

میانمار میں زیادہ تر روہنگیا مسلمان ریاست اراکان ہی میں آباد ہیں لیکن 2012ء میں مسلم کش فسادات کے بعد سے ہزاروں کی تعداد میں عارضی کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ان فسادات میں بدھ مت بلوائیوں نے روہنگیا مسلمانوں کے مکانوں کو نذر آتش کردیا تھا اور جن دیہات میں وہ اقلیت میں تھے ،وہاں سے انھیں نکال باہر کیا تھا۔

میانمار روہنگیا مسلمانوں کو ایک الگ نسلی اقلیت کے طور پر تسلیم نہیں کرتا ہے بلکہ انھیں بنگالی قرار دیتا ہے۔ اس کا اصرار ہے کہ وہ پڑوسی ملک بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے غیر قانونی تارکین وطن ہیں اور وہ وہاں سے برسوں قبل برما میں منتقل ہوئے تھے۔یہی وجہ ہے کہ ملک میں ان کی نقل وحرکت پر پابندیاں عاید ہیں۔انھِیں ملازمتیں نہیں دی جاتی ہیں اور شہری خدمات بھی مہیا نہیں کی جاتی ہیں۔اس صورت حال کے پیش نظر ہرسال ہزاروں روہنگیا مسلمان سمندر کا پُر خطر سفر کرتے ہوئے جنوب میں واقع مسلم ممالک ملائشیا اور انڈونیشیا کا رُخ کرتے ہیں۔

یادرہے کہ میانمار میں کوئی تین عشرے کے بعد سنہ 2014ء میں پہلی مردم شماری ہوئی تھی لیکن اس میں حکام نے مسلمانوں کو روہنگیا کے طور پر شناخت دینے سے انکار کردیا تھا۔ روہنگیا مسلمانوں پر ان مظالم کے ردعمل میں نوبل امن انعام یافتہ آنگ سان سوکائی سمیت میانمار کے سیاسی لیڈروں نے انتہائی سرد مہری کا مظاہرہ کیا ہے اور انھوں نے اپنے ہم مذہبوں کے مظالم کے خلاف کوئی توانا آواز بلند کی ہے اور نہ انھیں غلط کاریوں سے روکا ہے۔

بدھ متوں نے 2012ء کے آخر میں اراکان میں مسلمانوں کا قتل عام کیا تھا اور ان کے مکانوں ،دکانوں اور دیگر املاک کو نذرآتش کردیا تھا۔اقوام متحدہ نے تب ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ اس ریاست میں نسلی اور فرقہ وارانہ بنیاد پر خونریز جھڑپوں کے نتیجے میں اٹھائیس ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے تھے۔ان میں ستانوے فی صد سے زیادہ روہنگیا مسلمان تھے۔جون 2012ء میں پچھتر ہزار سے زیادہ مسلمان کو بے گھر کرکے عارضی کیمپوں میں دھکیل دیا گیا تھا۔