.

حسن نصراللہ کا محافظ فوجی وردی میں شامی محاذ جنگ پر موجود!

لبنانی تنظیم حزب اللہ سربراہ کے ذاتی محافظ کو حلب میں دیکھا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سیکڑوں جنگجو شام میں صدر بشارالاسد کے پرچم تلے جنگ میں شریک ہیں۔ ان میں سے کئی ایسے جنگجو بھی شامل ہیں جن کا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کے ساتھ گہرا تعلق بتایا جاتا ہے۔

العربیہ نیوز چینل کے مطابق حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک تصویر تیزی کے ساتھ گردش کرنا شروع ہوئی ہے۔ یہ تصویر حسن نصراللہ کے ذاتی محافظ اور ان کے انتہائی قابل اعتماد ساتھی الحاج ابوعلی کی بتائی جاتی ہے۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ تصویر کب اور کہاں اتاری گئی ہے تاہم سوشل میڈیا بالخصوص سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ ’فیس بک‘ کے متعدد صفحات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تصویر حالیہ دنوں کی ہے اور اسے شمالی شام کے شہر حلب میں محاذ جنگ سے لی گئی ہے۔

اس تصویر میں الحاج ابو علی کو فوجی وردی میں دیکھا جاسکتا ہے۔ قبل ازیں 13 نومبر کو لبنان کے شہر القصیر میں ایک فوجی نمائش کے دوران ابو علی کو حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کے ہمراہ دیکھا گیا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حسن نصراللہ کا ذاتی محافظ الحاج ابو علی حالیہ دنوں ہی کے دوران شام پہنچا ہے۔

رپورٹ کے مطابق حسن نصراللہ کے قریبی ساتھی اور قابل اعتماد محافظ الحاج ابو علی نے ایرانی پاسداران انقلاب کے خفیہ ٹریننگ کیمپوں میں عسکری تربیت کے کئی کورس کررکھے ہیں۔ اس نے سنہ 1990ء کے عشرے میں پاسداران انقلاب کے عسکری کیمپوں میں فوجی تربیت لینا شروع کی تھی۔ اس وقت اس کا شمار حسن نصراللہ کے انتہائی قریبی 19 اہم ذاتی محافظوں میں ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حزب اللہ کے ہاں الحاج ابو علی کو’’سید کی ڈھال‘‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔

ادھر لبنانی اخبار’’النھار‘‘ نے دعوی کیا ہے کہ الحاج ابو علی کی شام میں فوجی وردی میں لی گئی تصویر حلب شہر میں بنائی گئی ہے جسے اب سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کیا جا رہا ہے۔ سولہ نومبر کو اسرائیل کے عبرانی زبان میں نشریات پیش کرنے والے ٹیلی ویژن چینل 10 نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ القصیر کے مقام پر ہونے والی فوجی پریڈ اور اسلحہ کی نمائش کے دوران حسن نصراللہ اپنے ذاتی محافظ الحاج ابو علی کے ہمراہ شریک ہوئے تھے۔