.

''مجھے اللہ پر پختہ یقین ہے،وہ جان سے مارنا چاہتے ہیں تو ماردیں''

سعودی عرب میں دائرہ اسلام میں داخل ہونے والے بھارتی نے موت کو کیسے قریب سے دیکھا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت میں ایک نومسلم کو سعودی عرب واپس روانہ ہونے سے ایک روز قبل گذشتہ ہفتے کے روز نامعلوم بلوائیوں نے بے دردی سے قتل کردیا تھا لیکن حیرت انگیز طور پر اس نے پہلے ہی کہ دیا تھا کہ اس کو موت سے کچھ خوف نہیں آتا ہے،وہ (قاتل) اگر مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں تو ایسا کر گزریں۔

بھارتی شہر انیل کمار نے سعودی دارالحکومت الریاض میں قیام کے دوران آٹھ ماہ اسلام قبول کیا تھا اور پھر اپنا نام فیصل رکھ لیا تھا۔وہ اس سال اگست میں چھٹیوں پر واپس بھارت آیا تھا۔اس نے ریاست کیرالہ کے ضلع ملاپورام میں واقع گاؤں قوندنجی میں ایک عالم دین سے ملاقات کی تھی اور انھیں اسلام قبول کرنے کے بعد ملنے والی دھمکیوں سے آگاہ کیا تھا۔

گاؤں کے عالم دین نے فیصل کو تجویز پیش کی تھی کہ وہ کمیونٹی کا تحفظ حاصل کرے۔تیس سالہ فیصل نے یہ تجویز مسترد کردی اور کہا کہ ''اسلام قبول کرنے کے بعد اب مجھے اللہ پر ہر معاملے میں پکا یقین اور بھروسا ہوچکا ہے۔ اگر وہ مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں تو وہ ایسا کر گزریں''۔

فیصل ہندوؤں کی ایک اعلیٰ ذات نائر سے تعلق رکھتا تھا اور وہ گذشتہ چھے سال سے سعودی عرب میں ڈرائیور کے طور پر کام کررہا تھا۔ اگست میں جب وہ آبائی وطن بھارت آیا تھا تو اس کی بیوی اور تین بچوں نے بھی برادری والوں کی مخالفت کے باوجود اس کی دعوت پر اسلام قبول کر لیا تھا۔اس کی بیوی پریا کا نام تبدیل کر کے جیسنی رکھ دیا تھا اور اس کے تینوں بچے دس سال سے کم عمر کے ہیں۔

پولیس نے ابھی تک اس کے قتل کے الزام میں کسی شخص کو گرفتار نہیں کیا ہے۔ فیصل کے گاؤں کے مکینوں اور رشتے داروں کے مطابق اس کو صرف دائرہ اسلام میں داخل ہونے کی بنا ہر قتل نہیں کیا گیا ہے بلکہ وہ دوسروں کی بھی کلمہ توحید پڑھنے کے لیے حوصلہ افزائی کررہا تھا۔

اس کی خواہش تھی کہ اس کی والدہ میناکشی بھی اسلام قبول کرلے۔وہ گذشتہ اتوار کو سعودی عرب روانہ ہونے والا تھا اور اس نے ایک مقامی مسلم رہ نما سے یہ کہا تھا کہ وہ اس کی والدہ کے قبول اسلام کے لیے انتظامات کا بندوبست کریں۔

پولیس ذرائع نے بتایا ہے کہ فیصل نائر خاندان کا پہلا فرد نہیں تھا جس نے اسلام قبول کیا ہے بلکہ کئی سال قبل اس کے چچا ، ان کی اہلیہ اور دو بیٹیوں نے بھی اسلام قبول کر لیا تھا اور اب وہ اسی ضلع میں رہ رہے ہیں۔مقتول فیصل کی والدہ میناکشی کا کہنا تھا کہ ''ہمارے خاندان کے بہت سے لوگوں نے پہلے بھی اسلام قبول کیا تھا لیکن صرف میرے ہی بیٹے کو ہدف بنایا گیا ہے اور اس کی جان لے لی گئی ہے''۔

قوندنجی میں واقع ان کے آبائی گھر میں فیصل کے والد کرشنن نائر نے بتایا کہ ''وہ خود اپنے انتخاب سے مسلمان ہوا تھا۔کسی نے اس کو ایسا کرنے پر مجبور نہیں کیا تھا۔یہ اس کا اپنا فیصلہ تھا لیکن اس کو عقیدے کی تبدیلی کے بعد زندہ رہنے کا حق نہیں دیا گیا ہے''۔ان کا کہنا تھا کہ ان کے اپنے ہی رشتے دار فیصل کے اسلام قبول کرنے پر خوش نہیں تھے۔

فیصل کے والد روزانہ مزدوری کرتے ہیں اور وہ اپنے آبائی گھر میں مقیم ہیں۔مقتول نزدیک ہی واقع اپنے بیوی بچوں کے ساتھ کرائے کے مکان میں رہتا تھا لیکن وہ والدین کو بھی سعودی عرب سے ماہانہ خرچہ بھیجتا رہتا تھا۔اس کی دو بہنیں ہیں اور وہ ان کے ساتھ بھی اچھا برتاؤ کیا کرتا تھا۔