.

مصر: سیزیرین آپریشن کے دوران سیلفی لینے والا ڈاکٹر معطل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں ایک مرد گائناکالوجسٹ کی جانب سے خاتون کے سیزیریئن آپریشن کے دوران اپنے ساتھیوں سمیت لی گئی سیلفی نے ہنگامہ کھڑا کر دیا ہے۔ یہ افسوس ناک واقعہ شمالی صوبے البحیرہ میں ایتای البارود ہسپتال کے آپریشن تھیٹر میں پیش آیا۔ مذکورہ سیلفی کو سوشل میڈیا ویب سائٹ "فيس بک" پر پوسٹ کر دیا گیا جب کہ تصویر میں پس منظر میں خاتون مریضہ کی ستر بھی ظاہر ہو رہی ہے۔

مذکورہ تصویر کے پوسٹ کیے جانے پر ڈاکٹر کے فیس بک پیج پر لوگوں کی جانب سے شدید تنقیدی رد عمل سامنے آیا جس پر آدھے گھنٹے کے بعد تصویر کو حذف کر دیا گیا۔

البحیرہ صوبے میں وزارت صحت کے سکریٹری ڈاکٹر علاء عثمان نے سیلفی پوسٹ کرنے والے ڈاکٹر کے خلاف تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے جب کہ انتظامی استغاثہ نے بھی سرزنش کے اقدامات سے قبل ڈاکٹر کو طلب کر لیا ہے۔

واقعے کے مرکزی کردار ڈاکٹر عبداللطيف عاشور نے آپریشن تھیٹر میں سیلفی لینے اور مریض کی حرمت پامال کرنے کی وجہ بتانے سے انکار کر دیا۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اجازت لینے کے بعد آپریشن کے دوران مریض کی تصویر لینا قانونی اور اخلاقی لحاظ سے کسی قسم کی خلاف ورزی شمار نہیں ہوتی ہے بشرط یہ کہ تصاویر میں مریض کا چہرہ نظر نہ آئے۔ عبداللطیف نے باور کرایا کہ وہ ایک بڑے ڈاکٹر ہیں اور ان کی اپنی ایک ساکھ ہے لہذا انہوں نے پہلے مریضہ سے اجازت لی تھی تاہم انہیں یہ خیال نہیں رہا کہ پس منظر میں کیا ظاہر ہو رہا ہے۔

ادھر ایتای البارود ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مختار المنشاوی نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ سیلفی لینے والے ڈاکٹر کے خلاف فوری اقدامات کیے گئے ہیں۔ ڈاکٹر کو کام سے روک دیا گیا ہے ، اس کے خلاف تحقیقات جاری ہیں اور آئندہ 3 ماہ تک اسے آپریشن تھیٹر میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے جب کہ اسی طرح واقعے میں شریک ساتھی ڈاکٹروں کو بھی کام سے روک دیا گیا ہے۔ ڈائریکٹر کے مطابق ڈاکٹر عبداللطیف ایک صاحب اخلاق ، قابل اور اچھی شہرت کے حامل ڈاکٹر ہیں۔ تصویر میں جو کچھ ظاہر ہوا اس کو جاننے کے بعد ڈاکٹر نے فوری طور پر تصویر کو حذف کر کے معذرت پیش کی۔ تاہم پھر بھی سوشل میڈیا پر بعض افراد کی جانب سے تبصروں میں بہت زیادہ شدت پسندی کا اظہار کیا گیا۔

انتظامی استغاثہ کے ترجمان احمد رزق کے مطابق استغاثہ کی ایک ٹیم نے ہسپتال پہنچ کر واقعے میں شریک افراد اور نرنسنگ اسٹاف سے پوچھ گچھ کی۔ اس کے علاوہ تصویر میں نظر آنے والے 4 دیگر افراد کو بھی بیانات دینے کے لیے بلایا جائے گا اور ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔