.

آپ مانیں گے؟ گھانا میں امریکا کا جعلی سفارت خانہ 10 سال تک چلتا رہا

منظم جرائم پیشہ گروہ نے چرائے گئے اصلی امریکی ویزوں پر سیکڑوں افریقیوں کو امریکا بھیج دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جدید اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی ترقی کی بدولت دنیا آج عالمی گاؤں کہلاتی ہے اور دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پل بھر میں خبر پہنچ جاتی ہے لیکن اس دور میں بھی، جی ہاں! اس ترقی یافتہ دور میں دنیا کی واحد سپر پاور ریاست ہائے متحدہ امریکا کا افریقی ملک گھانا میں ایک جعلی سفارت خانہ مسلسل دس سال تک چلتا رہا ہے اور امریکیوں کو اس کی کانوں کان خبر نہیں ہوئی ۔

یہ سفارت خانہ گھانا کے دارالحکومت عکرہ میں قائم تھا۔اس کو جرائم پیشہ افراد کا ایک منظم نیٹ ورک چلا رہا تھا۔امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اس جعلی سفارت خانے سے غیر قانونی طور پر ہتھیائے یا جعل سازی سے حاصل کردہ ویزے ایک عشرے تک جاری کیے جاتے رہے ہیں۔

یہ سفارت خانہ گھانا کے دارالحکومت میں گلابی رنگ کی ایک دو منزلہ عمارت میں قائم تھا۔اس کو اسی موسم گرما میں بند کیا گیا ہے۔اس کی آہنی چھت تھی اور اس کے باہر امریکی پرچم لہرا رہا تھا جبکہ عمارت کے اندر امریکی صدر براک اوباما کی تصویر آویزاں تھی۔

محکمہ خارجہ نے عرب نیوز کے لیے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ''اس سفارت خانے کو امریکی حکومت نہیں چلا رہی تھی بلکہ گھانا اور ترکی سے تعلق رکھنے والے منظم جرائم پیشہ گروہوں کا نیٹ ورک اور امیگریشن اور فوجداری مقدمات کی پیروی کرنے والا ایک وکیل چلا رہے تھے''۔

اس میں انگریزی اور ڈچ بولنے والے ترک شہری قونصلر افسر کے طور پر کام کرتے تھے اور دراصل وہی تمام سرگرمیاں چلا رہے تھے۔محکمہ خارجہ کے مطابق تحقیقات سے عکرہ میں ایک جعلی ڈچ سفارت خانے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

اس جعلی امریکی سفارت خانے کا جرائم پیشہ گروہ فراڈ کے ذریعے حاصل کردہ مگر بالکل اصلی اور قانونی امریکی ویزے اور پیدائش کے سرٹی فیکیٹس سمیت جعلی شناختی دستاویزات چھے ہزار امریکی ڈالرز فی کس کے عوض جاری کیا کرتا تھا۔

گھانا اور امریکی حکام نے عکرہ میں اس جعلی سفارت خانے اور دوسری جگہوں سے چھاپا مار کارروائیوں کے دوران متعدد افراد کو گرفتار کیا تھا،ان کے قبضے سے بھارت ،جنوبی افریقا اور شینجن کے مصدقہ مگر چُرائے گئے کثیر تعداد میں ویزے ،دس مختلف ممالک کے ڈیڑھ سو پاسپورٹس ، ایک لیپ ٹاپ اور متعدد اسمارٹ فونز برآمد ہوئے تھے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے بیان میں یہ وضاحت نہیں کی ہے کہ اس گینگ نے مصدقہ ویزے کیسے حاصل کیے تھے اور نہ یہ بتایا ہے کہ ان ویزوں پر گذشتہ برسوں کے دوران کتنے لوگ غیر قانونی طور پر امریکا اور دوسرے ممالک میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

بیان کے مطابق '' جرائم پیشہ گروہ بدعنوان حکام کو رشوت دے کر اپنی جعل سازی کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے تھا۔یہ ان ہی بدعنوان افسروں کو رقوم دے کر خالی سرکاری دستاویزات حاصل کرلیتا تھا۔گھانا کے محکمہ تفتیش جرائم نے اس معاملے کے حوالے سے فوری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

واضح رہے کہ افریقا میں مغربی ممالک کے ویزوں کی بڑی مانگ ہے۔اس وجہ سے ان کے دام بھی منھ مانگے طلب کیے جاتے ہیں اور منظم جرائم پیشہ گروہوں کو ویزا مارکیٹ میں خوب کھل کھیلنے کا موقع مل رہا ہے۔

عکرہ میں امریکا کا حقیقی سفارت خانہ کنٹونمنٹ کے علاقے میں ایک قلعہ نما کمپلیکس میں واقع ہے۔وہاں ویزے اور دوسرے سرگرمیوں کے لیے ہر روز لوگوں کی لمبی قطاریں نظر آتی ہیں جبکہ جعلی سفارت خانہ ہفتے میں تین دن کھلا رہتا تھا۔وہاں ہر آنے والے سے ملاقات نہیں کی جاتی تھی بلکہ جرائم پیشہ گروہ ویزوں سے متعلق گھانا ،ٹوگو اور آئیوری کوسٹ میں بل بورڈز کے ذریعے ویزوں کی بابت تفصیل مشتہر کرتا تھا۔ مغربی افریقا کے تمام علاقوں سے گاہک عکرہ میں واقع اس جعلی امریکی سفارت خانے میں آتے تھے اور وہاں انھیں نزدیک واقع ہوٹلوں میں ٹھہرایا جاتا تھا۔

امریکی حکام کو ایک وسیع تر سکیورٹی کارروائی کے دوران اس جعلی سفارت خانے کے بارے میں پتا چلا تھا۔انھوں نے اس منظم مجرمانہ سرگرمی میں ملوّث گروہ کو پکڑنے کے لیے ایک ٹیم تشکیل دی تھی۔اس میں گھانا کا سراغرساں ادارہ اور پولیس کے علاوہ بین الاقوامی شراکت دار بھی شامل تھے۔انھوں نے اس جرائم پیشہ گروپ کی سرگرمیوں کے خاتمے کے لیے متعدد کارروائیاں کی ہیں۔