.

پورٹ سعید اسپتال کے باہر دم توڑنے والے شخص کی تصویر پر مصری ہکّا بکّا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے ساحلی شہر پورٹ سعید میں ایک شخص کی جنرل اسپتال کے باہر بے یارو مددگار حالت میں موت کی تصویر کی سماجی روابط کی ویب سائٹس پر گذشتہ چند روز سے خوب تشہیر کی جارہی ہے اور بیشتر مصری اس تصویر کو دیکھ کر ہکّا بکّا رہ گئے ہیں اور انھوں نے اس پر اپنے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

اس متوفیٰ کا نام انور مصطفیٰ درویش بتایا گیا ہے اور اس کی اسپتال کے باہر مردہ حالت میں تصویر پہلے فیس بُک اور ٹویٹر پر پوسٹ کی گئی تھی۔یہ بتایا گیا ہے کہ وہ نفسیاتی عارضے میں مبتلا تھا۔اس نے میلے کچیلے کپڑے پہن رکھے تھے اور وہ پورٹ سعید کے ایک اسپتال کے مرکزی دروازے کے باہر ایک وھیل چیئر پر مردہ حالت میں پایا گیا تھا۔

موت کے مُنھ میں جانے سے قبل اس مریض کی مناسب طبی نگہداشت نہیں کی گئی اور اس کی لاش کو ایسے ہی چھوڑ دیے جانے پر مصریوں نے اپنے سخت غم وغصے کا اظہار کیا ہے۔انسانی حقوق کے کارکنان نے پورٹ سعید کے مذکورہ اسپتال کی انتظامیہ کو اس کی موت کا ذمے دار قرار دیا ہے اور یہ بھی افواہ زیر گردش تھی کہ اسپتال نے اس کو ضروری علاج کے بغیر ہی فارغ کردیا تھالیکن اسپتال نے ان افواہوں کی تردید کی ہے۔

اس متوفیٰ کے دو بھائی اور دو بہنیں تھیں۔اس کا والد محکمہ پولیس میں ملازم تھا اور اس نے اپنے تینوں بیٹوں کے نام مصر کے دو سابق صدور جمال عبدالناصر ،انورالسادات اور لیبیا کے سابق صدر معمر قذافی کے نام پر رکھے ہوئے تھے۔

مرحوم انور کا تین روز قبل انتقال ہوا تھا اور وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ ہی رہتا تھا۔اس کے رشتے داروں نے بتایا ہے کہ اس کی حالت اچانک غیر ہو گئی تھی اور وہ زمین پر گر گیا تھا۔اس کو اسی حالت میں اسپتال لے جایا گیا تھا،جب اسپتال کے ڈائریکٹر نے اس کو دیکھا تو اس نے انور کو زمین پر گرنے اور مٹی میں لت پت ہونے کی وجہ سے باہر لے جانے کا حکم دیا۔اس دوران اس کا پیشاب بھی ساقط ہوگیا تھا۔

پھر سکیورٹی والے اس کو وھیل چیئر پر اسپتال سے باہر لے گئے جہاں دروازے پر ہی اس کی روح اور جسم کا رشتہ منقطع ہوگیا تھا۔اسپتال کے ڈائریکٹر نے بعد میں پراسیکیوٹر کے روبرو اس کہانی کی صحت سے انکار کیا ہے۔ پراسیکیوٹر صاحب اس متوفیٰ کی انٹرنیٹ کے ذریعے تصویر منظرعام پر آنے کے بعد اس تمام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔