.

کیا روسی صدر کا دوست امریکی وزیر خارجہ بننے جا رہا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگلے دو دنوں میں جس امریکی شخصیت کو اپنا وزیر خارجہ نامزد کرنے جا رہے ہیں وہ دنیا بھر میں "پیڑولیم کنگ" اور 'روسی صدر ولادیمیر پیوتن کے جگری دوست" کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر 'ایرونگ' کے رہائشی 65 سالہ ریکس ٹیلرسن گزشتہ دس برسوں سے امریکا میں پیڑوکیمکل منصوعات تیار کرنے والی معروف 'ایکسن موبل' کمپنی کی مجلس انتظامیہ کے سربراہ چلے آ رہے ہیں۔ تیل اور گیس کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والی 'ایکسن موبل' دنیا کے پچاس سے زائد ملکوں کے ساتھ تجارتی روابط ہیں اور اس میں اسی ہزار ملازمین خدمات سرانجام دیتے ہیں۔

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ریکس ٹیلرسن کے صدر پوتن کے ساتھ گہرے روابط ہیں۔ نیز ان کی دنیا کے متعدد دیگر رہنماؤں سے دوستی کے قصے بھی میڈیا کی زنیت بنتے رہتے ہیں۔ ریکس کی اہلیہ رینڈا سینٹ کلیئر کے بطن سے ان کے چار بچے ہیں۔ انہوں نے 1975 میں سول انجیئنرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ ریکس کو حکومتی امور چلانے کا چنداں تجربہ نہیں، تاہم نیویارک ٹائمز کے مطابق وہ گزشتہ برس دنیا بھر کی 25 اہم ترین شخصیات کی فہرست میں شامل تھے۔ انہیں وزارت خارجہ کا قلمدان سونپنے سے مفادات کا ٹکراؤ پیدا ہونے کا اندیشہ اپنی جگہ موجود ہے۔

کیونکہ تیل اور گیس کے شبعے میں سرگرم ان کی کمپنی روس سمیت دنیا کے مختلف ملکوں میں کاروبار کر رہی ہے۔ نیز وہ خود بھی اس وقت ایکسن موبل کے اعلی انتظامی عہدے پر فائز ہیں جہاں وہ دو ملین 250 ہزار ڈالر ماہانہ تنخواہ وصول کرتے ہیں۔ ان کی دولت کا تخمینہ 151 ملین ڈالر لگایا جاتا ہے۔

روسی نیشنل آڈر آف فرینڈشپ

روسی صدر پیوتن سے ان کی دوستی کا غاز 2011 میں اس وقت ہوا جب ان کی کمپنی ایکسن موبل اور روسی حکومت کی سب سے بڑی کمپنی Rosneft کے درمیان تیل کی تلاش اور پیداوار کا معاہدہ ہوا۔ معاہدہ طے پانے پر ریکس کی کمپنی کو روس میں دس مزید پراجیکٹ پر کام کرنے کا موقع ملا۔ اس کے بعد روسی صدر اور ٹیلرسن ایک دوسرے کے قریب آئے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ پر نشر کردہ زیر نظر ویڈیو میں پیوتن انہیں غیر ملکیوں کے لئے روس کا اعلی سول ایوارڈ "نیشنل آڈر آف فرینڈشپ" عطاء کرتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔

بل کلنٹن کے دور میں امریکی نائب وزیر دفاع جان ہامر نے مؤقر اخبار "وال اسٹریٹ جرنل" میں گزشتہ ہفتے ایک کالم میں دعوی کیا تھا کہ ' ٹیلرسن واحد امریکی شخصیت ہیں کہ جس کے ساتھ روسی صدر پیوتن نے سب سے زیادہ وقت گزارا ہے، تاہم ہنری کیسنجر اس معاملے میں ایک استثناء ہیں'

امریکا اور روس کے درمیان مشترکہ منصوبے 2014 میں امریکا سمیت مغربی دنیا کی پابندیوں کی نظر ہو گئے۔ یہ پابندیاں یوکرین میں روسی مداخلت اور وہاں پر علاحدگی پسندوں کی مبینہ امداد کی پاداش میں عائد کی گئیں۔ ماسکو میں امریکی سفیر مائیکل مکفول سمجھتے ہیں کہ ٹیلرسن کو امریکی وزیر خارجہ بنانے کا فیصلہ اس حوالے سے اہم ہو گا کہ اگر ٹرمپ، روس پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس کا فائدہ دونوں ملکوں کو ہو گا۔