.

نامعلوم مخیّر سعودی کی گراں قدر امداد سے پاکستانی ٹرک ڈرائیور کی جان بخشی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اس دنیا میں اللہ کے ایسے بندے بہ کثرت موجود ہیں جو کسی قسم کی ریاکاری سے پاک اور بالکل خاموشی سے حاجت مندوں کی امداد کرتے ہیں اور ان کی شناخت کے بارے میں کسی کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہوتی ہے۔

کچھ ایسا ہی معاملہ سعودی عرب میں ایک ضرورت مند پاکستانی ٹرک ڈرائیور رستم خان کے ساتھ پیش آیا ہے اور جب وہ ہر طرف سے ناامید ہوچکا تھا تو ایک نامعلوم سعودی نے دیت ادا کر اس کی جان بخشوا لی ہے۔

اس ڈرائیور کو ایک ٹریفک حادثے کا ذمے دار ہونے کی بنا پر قید کی سزا ہوگئی تھی۔سعودی میڈیا کی اطلاعات کے مطابق ایک سال قبل اس حادثے میں ایک فوجی اہلکار جاں بحق ہوگیا تھا۔وہ جیل جانے سے قبل بمشکل اپنا گزارہ کررہا تھا۔اس سے رہائی کے لیے ڈھائی لاکھ سعودی ریال خون بہا کے طور پر طلب کیے گئے تھے۔

رستم خان نے اپنے طور پر بہت کوشش کی لیکن وہ اس رقم کا بند وبست نہیں کرسکا تھا۔اس کو ایک خیال سوجھا۔اس نے ایک ویڈیو کے ذریعے سوشل میڈیا پر اپنی جاں بخشی کے لیے اپیل کی اور یہ بھی پیش کش کی کہ وہ مطلوبہ رقم کے حصول کے لیے اپنا گردہ بیچنے کو بھی تیار ہے۔

اس کے اس ویڈیو کلپ کی انٹرنیٹ پر بھرپور تشہیر ہوئی۔اس کے بعد سوشل میڈیا پر ایک اور ویڈیو کلپ پوسٹ ہوا ۔اس میں سعودی اداکار فائز المالکی مخاطب تھے اور وہ یہ اعلان کررہے تھے کہ ایک مخیّر شخص نے خون بہا کی تمام رقم ادا کردی ہے اور ساتھ یہ کہا ہے کہ ان کا نام ظاہر نہ کیا جائے۔

اس ویڈیو کلپ میں فائز المالکی ڈھائی لاکھ ریال کی رقم گن رہے تھے اور پھر اس کو رستم خان کے ایک رشتے دار کے حوالے کررہے تھے۔ متوفیٰ فوجی اہلکار کے والدین خون بہا لینا نہیں چاہتے تھے۔اس لیے یہ رقم اس کے وارثوں کو ادا کر دی گئی ہے۔

کسی مخیّر سعودی کی جانب سے کسی حاجت مند کی اس طرح خاموش امداد کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔چند روز قبل ہی ایک شاہراہ پر صفائی کے دوران حسرت بھری نظروں سے زیورات کی جانب دیکھنے والے بنگلہ دیشی خاکروب پر بھی سعودیوں نے تحائف کی بارش کردی تھی۔

اس کی زیورات کو حسرت آمیز نگاہوں سے دیکھتے ہوئے تصویر کسی نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی تھی اور اس کا مضحکہ اڑایا گیا تھا لیکن مخیّر اور درد دل رکھنے والے سعودی آگے بڑھے۔انھوں نے اس کی ضرورت اور مجبوری کو سمجھا اور اس کو طلائی زیورات کے سیٹوں اور سمارٹ فونز سے نواز دیا تھا۔