.

قدرت کا کرشمہ : خاتون کے یہاں منجمد مبیضی خلیے کے ذریعے ولادت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اپنی نوعیت کے ایک نادر معجزاتی واقعے میں ایک اماراتی خاتون نے مبیضی خلیے کی دوبارہ پیوندکاری کے بعد بچے کو جنم دیا ہے۔ 24 سالہ خاتون موزہ المطروشی کے مبیضی خلیے کو بچپن میں نکال کر منجمد کر دیا گیا تھا۔

لندن کے نجی ہسپتال پورٹ لینڈ میں ہونے والی اس ولادت سے ان ہزاروں نوجوان خواتین کے لیے امید کی کرن پیدا ہو گئی ہے جو سرطان یا دیگر امراض کی وجہ سے بیضہ دانی کو نقصان پہنچنے کے باعث بانجھ پن کا شکار ہیں۔

المطروشی کا کہنا ہے کہ " میں نے کبھی امید کا دامن نہیں چھوڑا اور اب میں نے بچے کو جنم دیا ہے جو ایک شان دار احساس اور کرشمہ ہے۔ ہمیں اس نتیجے تک پہنچنے کے لیے طویل انتظار کرنا پڑا"۔

دبئی سے تعلق رکھنے والی المطروشی پیدائشی طور پر "بِیٹا تھیلیسیمیا" کا شکار تھیں۔ کیمیائی علاج کے سبب ان کی بیضہ دانیوں کو شدید نقصان پہنچا۔ بہرکیف وہ نو برس کی ہوئیں تو لندن میں لیڈز کے ایک ہسپتال میں ان کی دائیں بیضہ دانی کو نکال لیا گیا۔ اس بیضہ دانی کے خلیے کو منجمد حالت میں محفوظ کر لیا گیا تاکہ بعد ازاں زندگی کے کسی مرحلے پر مریضہ کے لیے اسی استعمال میں لایا جا سکے۔

سائنسی طور پر مبیضی خلیے کو مائع نائیٹروجن کے اندر (196-) ڈگری سینٹی گریڈ پر محفوظ کیا جاتا ہے۔

مذکورہ خلیہ گزشتہ برس تک محفوظ رکھا گیا۔ اس کے بعد وہ ڈنمارک بھیج دیا گیا جہاں اس کی اماراتی خاتون کے جسم میں پیوند کاری کر دی گئی۔