.

داعش کا کرد دو شیزہ کے قتل پرایک ملین ڈالر کا انعام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی سطح پر دہشت گردی کے جرائم میں ملوث عناصر کی زندہ یا مردہ گرفتاری پر انعامات مقرر کیے جاتے رہتے ہیں مگر شدت پسند گروپ ’داعش‘ نے بھی ایک 22 سالہ کرد دوشیزہ کے سر کی قیمت ایک ملین ڈالر مقرر کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ہفتے کے روز سوشل میڈیا پر یہ خبر تیزی کے ساتھ گردش کرنے لگی کہ داعش نے یورپ میں مقیم اپنے جنگجوؤں کو ہدایت کی ہے کہ وہ شام اور عراق کی کرد تنظیموں سے وابستہ ڈنمارک کی دوشیزہ کو قتل کریں اور اس کے بدلے میں تنظیم سے ایک ملین ڈالر کا انعام پائیں۔

ڈنمارک سے تعلق رکھنے والے 22 سالہ جوانا بالانی ایک بار پھر یورپی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز ہے۔ وہ کئی ماہ تک شام اور عراق میں کرد تنظیموں کے ساتھ داعش مخالف لڑائیوں میں پیش پیش رہی ہے۔ حال ہی میں وہ اپنے آبائی ملک لوٹ گئی جہاں امکان ہے کہ حکام اسے غیرقانونی مقاصد کے لیے بیرون ملک سفر کرنے اور عسکری گروپوں میں شمولیت اختیار کرنے کی پاداش میں چھ ماہ قید کی سزا سنا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بالانی کے دوبارہ بیرون ملک سفر پر پابندی بھی لگ سکتی ہے۔ اسے بیرون ملک سفر سے روکنے کے لیے دھمکیاں دی گئی ہیں اور اس کا پاسپورٹ بھی ضبط کرلیا گیا ہے۔

جونا بالانی نے اخبار ’نیویارک پوسٹ‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ کسی شدت پسند گروپ میں لڑائی کے لیے شامل ہونا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شدت پسند گرفتاری سے بچنے کے لیے موت کو زندگی پر ترجیح دیتے ہیں۔

جوانا لابانی نے اس وقت عالمی شہرت حاصل کی تھی جب اسے کرد قوم کے دفاع میں لڑنے والی تنظیم میں محاذ جنگ پر دیکھا گیا تھا۔ ایک سال قبل شمالی شام کے شہر کوبانی میں داعش کو نکال باہر کرنے والے کرد جنگجو گروپ میں بالانی بھی شامل تھیں۔ اس کے علاوہ اسے عراق کی البیشمرگہ فورس کے اہلکاروں کے ہمراہ بھی فوجی لباس میں دیکھا گیا ہے۔

ڈنمارک کی حکومت نے جوانا لابانی کی وطن واپسی پر اس کا پاسپورٹ ضبط کرلیا ہے۔ کل 20 دسمبر سے اس کے خلاف ایک عدالت میں خفیہ ٹرائل شروع ہوگا۔ عدالت کی طرف سے اسے چھ ماہ قید کی سزا بھی ہوسکتی ہے۔ لابانی ان دنوں اپنے خاندان کے ہمراہ مختصر چھٹیاں گذارنے ڈنمارک آئی ہیں۔

خیال رہے کہ لابانی کے والد اور دادا کرد فوج البیشمرگہ میں ملازم رہ چکے ہیں۔ لابانی بچپن میں کوپن ہیگن منتقل ہوگئی تھی۔ خلیج جنگ کے دوران لابانی کی پیدائش الرمادی شہر میں ایک پناہ گزین خاندان کی بیٹی کی شکل میں ہوئی۔ کچھ عرصہ قبل جب شام و عراق میں داعش کا ظہور ہوا تو وہ ڈنمارک سے دوبارہ عراق میں سرگرم کرد عسکری گروپوں میں شامل ہوگئی تھی۔