.

مرنے سے 36 گھنٹے قبل نوجوان نے منگیتر کا خواب پورا کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں سرطان کے مرض سے لڑنے والے شخص نے بستر مرگ پر اپنی منگیتر کا شادی کا خواب پورا کر دیا اور اس کے 36 گھنٹے بعد دنیا سے رخصت ہو گیا۔

راؤل ہینوجوسا اور وائیوان لیماس کی منگنی 2006 میں ہوئی تھی۔ وہ دونوں زندگی کا یہ خواب حسین انداز سے پورا کرنے کے واسطے مناسب وقت کے منتظر رہے۔ اس طرح شادی میں تاخیر ہوتی رہی بالخصوص 2012 کے بعد جب اس امر کی تشخیص ہوئی کہ ہینوجوسا خون کے سرطان میں مبتلا ہے۔

مرض میں مشغولیت

اس ہلا دینے والے انکشاف نے دونوں منگیتروں کو شادی کا خواب پورا کرنے کے بجائے علاج کی منصوبہ بندی کرنے پر مجبور کر دیا۔ 22 اکتوبر کو ہینوجوسا کو ٹیکساس ریاست کے شہر آماریلو کے Baptist St Anthony's ہسپتال میں داخل کر دیا گیا۔

آخری خواہش

گزشتہ ہفتے ہسپتال کے ڈاکٹروں نے مگنیتروں کے اس جوڑے کو واضح کر دیا کہ "جو کچھ ان کے بس میں تھا وہ کر چکے ہیں"۔ اس موقع پر ہینوجوسا سے اس کی آخری خواہش پوچھی گئی تو لیماس نے بتایا کہ اس کے منگیتر کی خواہش ہے کہ وہ گھر لوٹ جائے تاکہ اپنے بچوں کے درمیان رہے۔

ہینوجوسا اور لیماس کے ایک 9 سالہ بیٹے کے علاوہ سابقہ تعلقات سے دونوں منگیتروں کے چار بچے اور بھی ہیں۔

ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ ہینوجوسا کو گھر منتقل کرنا بہت مشکل ہے اس لیے کہ اس کی آکسیجن کی سطح بہت زیادہ کمزور ہے۔ ڈاکٹروں کی جانب سے آخری خواہش کے بارے میں دوبارہ سوال پر ہینوجوسا نے جواب دیا کہ میں "اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں.. میں چاہتا ہوں یہ میری ہوجائے"۔ یہ سن کر لیماس رو پڑی کیوں کہ ہینوجوسا اس سنگین مرض کے باوجود اپنا وعدہ بھولا نہیں تھا۔

آئی سی یو میں شادی

ہینوجوسا کی آخری خواہش کی ہنگامی تکمیل کے لیے تیاری شروع ہو گئی۔ ہسپتال کے کیفے ٹیریا نے اس موقع کے لیے ایک بڑا کیک تیار کیا جب کہ مقامی عدالت نے شادی کا اجازت نامہ حاصل کرنے کے لیے 72 گھنٹوں کی لازمی مدت کی شرط بھی ختم کر دی۔

لیماس کے اہل خانہ نے اس کے لیے دلہن کا لباس اور جوتے تیار کیے جب کہ ہسپتال میں آئی سی یو کے ڈائریکٹر نے دولہا کے لیے کپڑے اور جرابوں تک کا انتظام کیا۔ لیماس کے مطابق 9 دسمبر کو بستر مرگ پر ہونے والی یہ شادی ناقابل فراموش واقعہ ہے۔ اس موقع پر ہسپتال کا کمرہ عزیز و اقارب اور دوستوں سے بھر گیا یہاں تک کہ راہ داری میں بھی مہمان نظر آنے لگے۔

تصوراتی کہانی کا اختتام

لیماس کی جانب سے تصوراتی قرار دی جانے والی کہانی زیادہ طویل نہ ہو سکی اور خالق کی طرف سے بلاوا آگیا۔ جی ہاں اس تقریب کے انعقاد کے محض 36 گھنٹے بعد ہی 33 سالہ ہینوجوسا اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔

ہینوجوسا کی موت کے سرٹفکیٹ پر دستخط کرتے ہوئے لیماس نے پہلی مرتبہ اپنے نام کے ساتھ شوہر کا نام " وائیوان ہینوجوسا" تحریر کیا۔

لیماس کا کہنا تھا کہ " وہ بہت محبت کرنے والا انسان تھا.. میں اس کو نہیں بھول سکوں گی۔ وہ تمام وقت اپنے گھر والوں کے ساتھ گزارنا پسند کرتا تھا"۔