.

ترکی میں دہشت گردی کا شکار لبنانی عورت کی اپنی موت کی پیشین گوئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے شہر استنبول میں نئے سال کی تقریبات کے دوران ایک نائٹ کلب پر داعش کے حملے میں ہلاک ہونے والی ایک لبنانی عورت نے وطن سے روانگی سے قبل فیس بُک پر ایسی تحریر پوسٹ کی تھی جس میں اپنی موت کی پیشین گوئی کر دی تھی۔

آئی ایم لبنان نیوز ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق ریتا شامی کی والدہ سرطان کے مہلک مرض کا شکار ہوکر چار ماہ قبل جان کی بازی ہار گئی تھیں۔اس نے فیس بُک پر لکھا:''امید ہے ہم ترکی میں بھرپور مزہ کریں گے۔ البتہ بدترین وقوعہ یہ ہوسکتا ہے کہ میں ایک بم دھماکے میں ماری جاؤں گی اور ماں کے پیچھے چلی جاؤں گی''۔

ذرائع کے مطابق اس کے غم سے نڈھال والد نے لبنان کے ایم ٹی وی کو بتایا ہے کہ '' میں نے اس کو (ترکی جانے سے) روکنے کی کوشش کی تھی لیکن اس نے اپنی دوستوں کے ساتھ ترکی جانے کا فیصلہ کر لیا تھا''۔

ریتا نے فیس بُک پر موت سے متعلق ایک نظم بھی پوسٹ کی تھی اور اس میں لکھا تھا:'' وہ ہمیشہ یہاں موجود ہیں اور وہ ہمیشہ ہمارے درمیان اور ارد گرد موجود ہیں''۔ اس نے متعدد دوسری پوسٹوں میں اپنی والدہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا تھا۔

سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے استنبول کے نائٹ کلب پر مسلح حملے کی ذمے داری قبول کی ہے۔داعش کے ایک حملہ آور نے نئے سال کی خوشیاں منانے والے لوگوں پر اندھا دھند فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں انتالیس افراد ہلاک اور انہتر زخمی ہوگئے تھے۔ مہلوکین میں سات سعودی اور تین لبنانی شہریوں سمیت سترہ غیر ملکی تھے۔