.

اسرائیل نے یو این کے خلاف انتقامی کارروائیاں شروع کر دیں

سال رواں کے لئے اقوام متحدہ کےاسرائیلی فنڈ میں چھ ملین ڈالر کٹوتی کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے اقوام متحدہ کے فنڈ میں رواں سال 6 ملین ڈالر کمی کا عندیہ ظاہر کیا ہے۔ یہ اقدام عالمی ادارے کی سلامتی کونسل میں گزشتہ برس ایک قرارداد منظور کرنے کی پاداش میں اٹھایا جا رہا ہے۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ جن علاقوں میں فلسطینی اپنی آزاد ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں وہاں پر یہودی بستیوں کی تعمیر کا سلسلہ بند کیا جائے۔

یاد رہے 23 دسمبر 2016 کو 15 رکنی سلامتی کونسل کے 14 رکن ملکوں نے مقبوضہ فلسطین میں یہودی بستیوں کے خلاف قرارداد منظور کی تھی۔ امریکا نے اس موقع پر ہونے والی رائے شماری میں حصہ نہیں لیا تھا۔ امریکا کے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیل نے واشنگٹن سے قرارداد کے خلاف ویٹو کا حق استعمال کرنے کو کہا تھا۔

اقوام متحدہ میں اسرائیلی مشن کے بقول "عالمی ادارے کو دیئے جانے والے عطیات میں کمی اس لئے کی جا رہی ہے کہ فلسطینیوں کے ناقابل تقسیم حقوق سے متعلق کمیٹی سمیت متعدد ذیلی ادارے 'اسرائیل مخالف' اقدامات کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔"

ایک بیان میں یو این میں اسرائیلی مندوب ڈینی ڈینن نے اس رائے کا اظہار کیا "کہ عالمی ادارے میں اسرائیل کے خلاف کام کرنے والی کمیٹیوں کو امداد دینے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کو اسرائیل کے خلاف لگائی بجھائی پر مبنی پروپیگنڈا کرنے والی کمیٹیوں کی حمایت ترک کرنا ہو گی۔"

اسرائیلی مشن کا کہنا تھا "کہ منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیس جنوری کو اقتدار سنبھالنے کے بعد یو این میں اسرائیل مخالف سرگرمیوں کا توڑ کرنے کے لئے مزید اقدامات اٹھائے جائیں گے۔"

فلسطینی مغربی کنارا، غزہ اور مشرقی بیت المقدس سمیت ان علاقوں میں خود مختار ریاست بنانے کے خواہش مند ہیں جن پر اسرائیل نے 1967 کی جنگ کے بعد قبضہ کر لیا تھا۔ یو این سمیت دنیا کے متعدد ملک مغربی کنارے میں اسرائیلی یہودی بستیوں کو قیام امن کی راہ میں ایک غیر قانونی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔

اسرائیل یہودی بستیوں کو غیر قانونی قرار دینے سے متعلق موقف کی یہ کہتے ہوئے مخالفت کرتا ہے کہ ان سے متعلق حتمی فیصلہ فلسطینی ریاست کے حوالے سے مذاکرات کے وقت کیا جانا چاہئے۔ امریکی قیادت میں فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات کا آخری دور 2014 میں ہوا تھا۔

فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے خلاف آخری قرارداد 1979 میں منظور ہوئی، اس وقت بھی امریکا نے رائے شاری میں حصہ نہیں لیا تھا۔