دل کے دورے سے 7 برس قبل مطلع کرنے والا خون ٹیسٹ دریافت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سوئٹزرلینڈ میں زیورخ یونی ورسٹی کے سائنس دانوں اور محققین نے خون کا ایک آسان سا ٹیسٹ دریافت کیا ہے جس کے ذریعے دل کا دورہ پڑنے سے 7 سال قبل ہی اس کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔ تقریبا 50 ڈالر کے اس ٹیسٹ کے ذریعے ڈاکٹر پیشگی اقدامات لے سکتے ہیں اور اپنے مریضوں کی بہتر طریقے سے زندگی گزارنے کے حوالے سے رہ نمائی کر سکتے ہیں تاکہ وہ مستقبل میں امراضِ قلب سے بچ سکیں۔

برطانوی اخبار "ڈیلی مِرر" کے مطابق یہ آسان ٹیسٹ ہسپتالوں کے ایمرجنسی شعبوں میں کیا جا سکتا ہے اور اس کے نتائج سے دل کا دورہ پڑنے سے قبل قلیل اور طویل مدت میں فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے.

اس نئے ٹیسٹ میں انسانی خون میں(TMAO) کہلائے جانے والے مادے کی سطح کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ انسانی جسم میں اس کی موجودگی کو متعدد نوعیت کے امراض قلب کے ساتھ مربوط کیا جا سکتا ہے جو بعض مرتبہ انسان کی موت کا ذریعہ بھی بن جاتے ہیں۔
محققین کے نزدیک(TMAO) کی سطح کو دو میں سے کسی ایک طریقے سے کم کیا جا سکتا ہے۔ ان میں پہلا طریقہ مناسب غذائی نظام ہے جب کہ دوسرا طریقہ ایک نئی دوا کا پابندی سے استعمال ہے جو جسم میں (TMAO) کے اخراج کو روکتی ہے۔ اس طرح آخرکار دل کے دوروں کا خطرہ کم کیا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ ہر سال دنیا بھر میں لاکھوں افراد دل کا دورہ پڑنے کے نتیجے میں فوت ہو جاتے ہیں جب کہ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بر وقت اور فوری طبی امداد کی صورت میں ان میں ایک بڑی تعداد کو موت کے منہ میں جانے سے بچایا جا سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں