.

غزہ میں پھر توانائی کا بحران ،دن میں صرف چار گھنٹے بجلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کی برّی ،بحری اور فضائی ناکا بندی کا شکار غزہ ایک مرتبہ پھر توانائی کے بحران کا شکار ہوگیا ہے اور محصور فلسطینیوں کو دن میں صرف تین سے چار گھنٹے بجلی مل رہی ہے جس سے وہ گوناگوں مسائل سے دوچار ہو گئے ہیں۔

غزہ میں دسمبر سے بجلی کا یہ نیا بحران جاری ہے۔اس سے قبل اہلِ غزہ کو دن میں آٹھ گھنٹے تک بجلی مہیا ہوتی تھی لیکن سردی کی شدت کے ساتھ بجلی کی مانگ میں بھی اضافہ ہوچکا ہے اور طلب کے مطابق بجلی دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے حکام کو لوڈ شیڈنگ کرنا پڑ رہی ہے۔رات کو تو غزہ شہر اندھیرے میں ڈوبا ہوتا ہے اور ہر طرف ہو کا عالم ہوتا ہے۔

غزہ کے مکین ان دنوں موم بتیوں سے رات کے وقت اپنے گھروں کو روشن رکھتے اور لکڑیاں جلا کر گزارہ کررہے ہیں۔بجلی آدھی رات کے بعد آتی ہے اور لوگ اس وقت تک اس کے انتظار میں جاگ رہے ہوتے ہیں،وہ کپڑے دھوتے ہیں یا غسل وغیرہ کر لیتے ہیں۔

اسرائیلی محاصرے کی وجہ سے اجتماعی قید جیسی زندگی گزارنے والے اہلِ غزہ اب مزید مشکلات کا شکار ہو گئے۔اس پریشان کن صورت حال میں ان کا کہنا ہے کہ وہ انسان کے بجائے چوہوں جیسی زندگی بسر کررہے ہیں جنھیں بنیادی اشیائے ضروریہ بھی دستیاب نہیں ہیں۔جمعرات کو جبالیا کے مہاجر کیمپ میں ہزاروں افراد نے بجلی کے بحران کے خلاف مظاہرہ کیا ہے اور ان کی غزہ کی حکمراں حماس کی پولیس کے ساتھ جھڑپوں کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔ مظاہرین نے بجلی کمپنی کے دفاتر کی جانب پتھراؤ کیا اور وہاں گولیاں چلنے کی آوازیں بھی سنی گئی ہیں۔

غزہ کے بعض مکینوں نے حماس کو بجلی کے اس بحران کا ذمے دار قرار دیا ہے اور اس کی انتظامیہ پر تنقید کی ہے جبکہ حماس کے حکام نے صدر محمود عباس کے تحت فلسطینی اتھارٹی کو اس صورت حال کا مورد الزام ٹھہرایا ہے جبکہ بعض نے اسرائیل کو اس تمام صورت حال کا ذمے دار قرار دیا ہے۔

اس بحران کی سادہ سی وضاحت یہ کی گئی ہے کہ غزہ کو ایک دن میں ساڑھے چار سو سے پانچ سو میگا واٹ تک بجلی درکار ہوتی ہے لیکن اس کو اس میں سے صرف ایک تہائی بجلی مہیا ہورہی ہے۔قریباً 30 میگاواٹ بجلی غزہ شہر کے اپنے اکلوتے پاور پلانٹ سے پیدا ہوتی ہے۔ 30 میگاواٹ مصر سے درآمد کی جاتی ہے اور 120 میگاواٹ بجلی اسرائیل مہیا کرتا ہے۔

غزہ ان دنوں شدید سردی کی لپیٹ میں ہے اور رات کو درجہ حرارت چار سے پانچ ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے۔اس دوران لوگ بجلی کے ہیٹر اور ریڈی ایٹر چلاتے ہیں جس سے بجلی کی کھپت بڑھ گئی ہے جبکہ رسد اس کے مقابلے میں کم ہوچکی ہے۔

حماس کی حکومت مالی مشکلات سے بھی دوچار ہے اور وہ غزہ کے پاور پلانٹ سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کے لیے ایندھن کا خرچ برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتی۔ یادرہے کہ اس پاور پلانٹ کو 2006ء کی جنگ میں اسرائیلی فوج کی بمباری سے شدید نقصان پہنچا تھا اور اس کے بعد اس کی پیداواری صلاحیت بھی کم ہو کر نصف رہ گئی تھی۔تاہم زیادہ مقدار میں ایندھن مہیا ہونے کی صورت میں اس کی پیداوار میں اضافہ کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے لیے مالی وسائل نہیں ہے کیونکہ غزہ کی بجلی کمپنی خود مالی بحران سے دوچار ہے اور اس کی بلوں کی مد میں قریباً ایک ارب ڈالرز کی رقوم صارفین کے ذمے واجب الادا ہے۔

اس کمپنی کے حکام کا کہنا ہے کہ انھیں بجلی کے نیٹ ورک کو بحال کرنے کے لیے پچاس کروڑ ڈالرز درکار ہیں جبکہ اسرائیل اور مصر نے غزہ کی پٹی کی کڑی ناکا بندی کررکھی ہے جس کی وجہ سے پاور پلانٹ کی مرمت کے لیے درکار فاضل پرزہ جات بھی آسانی سے دستیاب نہیں ہوسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور مصر کی جانب سے غزہ کی پٹی کو مہیا کی جانے والی بجلی کے واجبات فلسطینی اتھارٹی ادا کرتی ہے اور یہ رقم محاصل کی مد میں اکٹھی ہونے والی رقوم سے ادا کی جاتی ہے۔اس کے علاوہ غزہ کے پاور پلانٹ کے لیے ایندھن بھی وہی مہیا کرتی ہے مگر اس وقت فلسطینی اتھارٹی خود مالی مسائل سے دوچار ہے اور اس کی جانب سے محاصل کی رقوم نہ ملنے پر حماس نالاں ہے۔

حماس کے ترجمان فوزی برہوم نے فلسطینی اتھارٹی پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ اس بحران کو حماس کے تشخص کو نقصان پہنچانے کی غرض سے اپنی مطلب برآری کے لیے استعمال کرر ہی ہے اور غزہ کے عوام پر پابندیاں عاید کررہی ہے۔

برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز کے مطابق اسرائیل کی بجلی کمپنی غزہ کی پٹی کو مزید بجلی مہیا کرسکتی ہے اور اس کے پاس اس کی صلاحیت بھی ہے لیکن اس کا کہنا ہے کہ اس کو ماضی میں غزہ کو مہیا کی گئی بجالی کے واجبات ابھی تک ادا نہیں کیے گئے ہیں۔ اس لیے وہ مالی ضمانتوں کے بغیر مزید بجلی مہیا نہیں کرے گی۔

غزہ میں سرکاری طور پر بجلی مہیا نہ ہونے کے بعد آسودہ حال خاندان اور بعض فیکٹریاں اور کارخانے اپنے جنریٹر چلا کر بجلی پیدا کررہے ہیں اور ان کا کافی شور سنا جاسکتا ہے لیکن عام لوگوں کے لیے ڈیزل سے چلنے والے جنریٹروں سے بیس بیس گھںٹے بجلی حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔اس لیے وہ جنگل اور کھلے علاقوں سے لکڑیاں کاٹ کر لاتے ہیں اور ان پر گزارہ کرر ہے ہیں۔

غزہ شہر میں ایک بیکری کے مالک ہیثم بدرا نے بتایا ہے کہ انھیں بجلی مہیا نہ ہونے پر بھاری نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ انھیں اضافی جنریٹر چلانا پڑتا ہے۔پہلے وہ ایک ہفتے میں پندرہ سو لیٹر ڈیزل استعمال کرتے تھے۔اب انھیں چار ہزار لیٹر خرید کرنا پڑتا ہے اور اس کی ایک ہفتے کی لاگت بیس ہزار شیکلز(5250 ڈالرز) تک ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ''اگر یہ بحران اسی طرح جاری رہتا ہے تو غزہ میں تمام بیکریاں اور ریستوراں اپنے کاروبار بند کرنے پر مجبور ہوجائیں گے''۔