.

دمشق دھماکے میں مارا جانے والا انٹیلی جنس افسر کون تھا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حکومت سے وابستہ نیوز ویب سائٹس کے مطابق دمشق کی کفر سوسہ میونسپلٹی میں گذشتہ روز ہونے والے بم دھماکے میں سینئر انٹیلی جنس عہدیدار کرنل منذر صلاح حیدر ہلاک ہو گئے۔

لاطاکیہ، حمص اور طرطوس سے چلائی جانے والی نیوز ویب سائٹس نے بشار الاسد حکومت کے قریبی ذرائع کے حوالے سے بتایا جمعرات کے روز خودکش حملے میں کفر کوسہ کے اس مشہورانٹیلی جنس سینٹر کو نشانہ بنایا گیا جہاں متعددسیکیورٹی اور پولیس ایجنسیوں کے دفاتر بھی واقع ہیں۔ حملے میں کرنل حیدر ،شامی فوج کے ہیثم اسماعیل نامی افسر سمیت متعدد فوجی مارے گئے۔ ہیثم اسماعیل شامی صدر بشار الاسد کے ہمراہ اپنی ایک حالیہ تصویر اور ویڈیو کے بعد شہ سرخیوں کا موضوع بنے۔ مقتول فوجی افسر ہیثم کے ہمراہ مختصر ویڈیو کلپ بشار الاسد کے مشرقی دمشق کے علاقہ الغوطہ کے دورے کے موقع بنایا گیا تھا اور اس کے مشتہر ہونے کوہیثم اسماعیل نے اپنی اخلاقی حمایت میں اضافے کا باعث قرار دیا تھا۔

کرنل حیدر شام کا تعلق صوبہ حمص کی وادی الدھب سے بتایا جاتا ہے۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ کیا وہ انٹیلی جنس ونگ کے سربراہ کے طور پر خودکش حملے کا ہدف تھے؟ ۔ تاہم ابھی کسی بھی تنظیم نے بم حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ حملے میں آٹھ سے گیارہ افراد کے مارے جانے کی اطلاعات تھیں۔

بشار الاسد حکومت کے ہم خیال سماجی رابطوں کے فورمز پر کرنل منذر حیدر کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے بتایا جا رہا ہے کہ شامی حکومت نے انہیں بعد از مرگ بریگیڈئر کے عہدے پر ترقی دی دے ہے۔