جنگ زدہ شام میں آزاد پولیس کا ظہور اور ارتقاء

آزاد شامی پولیس کے اہلکار ادلب میں غیر جانبدار رہ کر کیسے کام کررہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف جاری عوامی احتجاجی تحریک اور اس کے بطن سے جنم لینے والی جنگ کو چھے سال ہونے کو ہیں۔ اس دوران میں بہت سے اتار چڑھاؤ آئے ہیں اور آج بشارالاسد کی حکومت کی عمل داری بہت تھوڑے علاقوں تک محدود ہے جبکہ دوسرے علاقوں میں باغی گروپوں،داعش اور القاعدہ سے وابستہ جنگجوؤں کا کنٹرول ہے۔

بشار الاسد کی حکومت کے خلاف مارچ 2011ء میں پُرامن مظاہروں سے احتجاجی تحریک کا آغاز ہوا تھا لیکن شامی سکیورٹی فورسز کی پر امن مظاہرین کے خلاف پُر تشدد کارروائیوں کے نتیجے میں اس تحریک نے بھی تشدد کا رخ اختیار کر لیا تھا۔

جب بشارالاسد کی فوج اور پولیس نے اپنے ہی عوام کے خلاف جبروتشدد کے حربے آزمانے شروع کیے تو باضمیر افسر اور فوجی حکومت سے الگ ہوتے چلے گئے۔ان منحرف فوجیوں نے جیش الحر کے نام سے اپنی الگ فورس تشکیل دے دی اور انھوں نے شامی فوج کے خلاف مسلح جدوجہد کا آغاز کیا۔

ملک میں جب خانہ جنگی میں تیزی آتی چلی گئی تو داعش اور النصرہ محاذ جیسے گروپوں کو بھی اپنے قدم جمانے کا موقع مل گیا اور شامی عوام بیک وقت اسدی فوج اور ان گروپوں کی چیرہ دستیوں کا شکار ہوگئے جبکہ اسدی پولیس نے من مانیاں شروع کردیں اور جنگ زدہ علاقوں سے گھر بار چھوڑ کر جانے والے شہریوں سے رشوت وصول کرنا اور انھیں حکومت کے حکم پر تشدد کا بھی نشانہ بنانا شروع کردیا۔

ان حالات میں شمال مغربی صوبے ادلب میں محمد عبدہ ایسے شامیوں نے اپنے طور پر اپنی پولیس اور سکیورٹی فورسز کو منظم کرنا شروع کردیا اور 2014ء میں ''آزاد شامی پولیس'' معرض وجود میں آئی۔

محمد عبدہ نے العربیہ انگلش سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ''آزاد شامی پولیس لوگوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کررہی ہے اور مشکل حالات میں ان کی مدد کرتی ہے۔اس کے اہلکار بشارالاسد کی پولیس فورس سے یکسر مختلف ہیں''۔

آزاد شامی پولیس کے سربراہ بریگیڈئیر فواد سوید نے العربیہ انگلش سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ''بشارالاسد اپنے خلاف تحریک کی ابتدا میں ان کے آدمیوں کو مظاہرین کو دبانے کے لیے پہلی دفاعی لائن کے طور پر استعمال کرنے لگے تھے۔انھیں پرامن مظاہرین پر گولیاں چلانے یا انھیں گرفتار کرنے کا حکم دیا جاتا تھا۔جب یہ پولیس اہلکار احکام ماننے سے انکار کردیتے تو انھیں یا تو گرفتار کر لیا جاتا یا پھر بہت ہی بُرے طریقے سے موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا تھا''۔

انھوں نے بتایا کہ ''شریف الطبع اور محب وطن پولیس اہلکاروں نے حکومت کے احکامات کو ماننے سے انکار کردیا اور انھوں نے پھر پولیس سے منحرف ہونا شروع کردیا''۔

وہ اسدی فوج کی طرح پولیس کو بھی خیرباد کہنے والے افسروں اور اہلکاروں کی داستان سنا رہے تھے۔انھوں نے شامی فوج کی شہری علاقوں پر بمباری کے حوالے سے بتایا کہ اس کے نتیجے میں بہت سے شہروں کا ڈھانچا ، تعلیم ،صحت اور بجلی کے شعبوں کی عمارتیں تباہ ہوچکی ہیں۔

اس صورت حال میں شہریوں کو بنیادی خدمات مہیا کرنے کی ضرورت تھی۔چنانچہ منحرف ہونے والے پولیس افسروں نے اپنے طور پر تھانے قائم کیے اور وہ بشارالاسد کی حکومت سے آزاد کرائے گئے علاقوں میں لوگوں کو خدمات مہیا کررہے ہیں۔

ابتدا میں اس آزاد پولیس کی نفری کم تھی۔اس لیے بہت سے عام شہری بھی تربیت حاصل کرنے کے بعد اس کی صفوں میں شامل ہوگئے۔اس وقت اس کے اہلکاروں کی تعداد چھے ہزار کے لگ بھگ ہے اور ڈیڑھ سو افسر ان کی قیادت کررہے ہیں۔ان میں سے قریباً بارہ سو اسدی پولیس سے منحرف ہوئے تھے۔

سوید نے اس آزاد پولیس کے مالی انتظام کے حوالے سے بتایا کہ ان میں سے بہت سوں کو بہت تھوڑی تن خواہ ادا کی جاتی ہے جبکہ مالی وسائل نہ ہونے کی وجہ سے باقی رضا کارانہ طور پر کام کررہے ہیں۔

آزاد پولیس بھی کسی عام سرکاری پولیس کی طرح اپنے فرائض انجام دیتی ہے۔وہ باغی گروپوں کے زیر قبضہ علاقوں میں ٹریفک کو کنٹرول کرتی ہے،برف باری یا فضائی بمباری کے نتیجے میں متاثرہ سڑکوں کو بحال کرتی ہے تاکہ ایمبولینس گاڑیوں کی آمد ورفت میں کوئی رکاوٹ نہ آئے اور زخمیوں کو بروقت اسپتالوں میں منتقل کیا جاسکے۔

اس طرح آزاد پولیس کے اہلکار سفید ہیلمٹ والے رضا کاروں کی کسی علاقے میں بمباری کے بعد امدادی سرگرمیوں میں مدد کرتے ہیں۔آزاد پولیس کے اہلکار عدلیہ کی عدم موجودگی میں نئے نئے جنم لینے والے تنازعات کے حل میں بھی ثالث کار کا کردار ادا کرتے ہیں۔

آزاد پولیس کے اہلکار اپنے عمل داری والے علاقوں میں قتل ، چوری ،قبضے ،دھوکا دہی ،ظلم و ناروا سلوک،اسمگلنگ جیسے جرائم اور غیر قانونی طور پر ادویہ تیار کرنے والوں کے خلاف تفتیش کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اپنے زیر نگیں علاقوں میں تاریخی نوادرات کو چوری ہونے سے روکتے اور ان کا تحفظ کرتے ہیں۔

بریگڈیئر سوید نے آزاد شامی پولیس کے مالی وسائل کے حوالے سے مزید بتایا کہ ابتدا میں تو تمام نظام لوگوں کے انفرادی عطیات سے چلایا جا رہا تھا لیکن سنہ 2014ء کے آخر میں امریکا ،برطانیہ اور ڈنمارک کی حکومتوں نے مالی امداد ، آلات اور تربیت دینے سے اتفاق کیا تھا اور تب سے ان کی طرف سے ماہانہ تنخواہیں ادا کرنے کے لیے رقوم مل رہی ہیں۔ اس وقت ادلب کے شمال اور جنوب میں آزاد پولیس کے دو تربیتی مراکز ہیں اور بعض ارکان کو ترکی میں بھی تربیت دی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسدی فوج اور دوسرے ممالک کے فضائی حملوں کے نتیجے میں آزاد پولیس کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس کے علاوہ دوسرے جنگ زدہ صوبوں حلب ،حمص ،دمشق ،حماہ اور اللذاقیہ سے لڑائی کے نتیجے میں بہت سے شامی اپنا گھر بار چھوڑ کر ادلب میں اٹھ آئے ہیں جس سے آبادی کا توازن بگڑ گیا ہے اور آنے والے لوگوں کی دیکھ بھال اور انھیں بنیادی ضروریات مہیا کرنے میں پولیس کو گوناگوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق ادلب میں دوسرے صوبوں سے بے گھر ہو کر آنے والے قریباً بیس لاکھ شامی رہ رہے ہیں۔آبادی میں اس طرح اچانک اضافے کی وجہ سے چوری ،قتل ،ڈکیتی اور دوسرے چھوٹے بڑے جرائم میں اضافہ ہوچکا ہے اور آزاد شامی فوج پر بھی کام کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔

آزاد شامی پولیس نے گذشتہ برسوں کے دوران میں سیاسی طور پر غیر جانب دار رہنے کی کوشش کی ہے اور اس کا کسی خاص باغی دھڑے سے تعلق نہیں ہے جبکہ اس نے باغی دھڑوں سے سمجھوتے بھی کررکھے ہیں کہ اس کی غیر جانبداری پر کوئی حرف نہیں آنے دیا جائے گا۔ البتہ بریگڈئیر سوید کا کہنا تھا کہ ان کی پولیس فورس کا منحرف فوجیوں اور باغی نوجوانوں پر مشتمل جیش الحر سے شاندار تعلق استوار ہے۔

آزاد شامی پولیس کے رضاکار امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
آزاد شامی پولیس کے رضاکار امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
مقبول خبریں اہم خبریں