.

سعودی طالبہ نے 55 طالبات کی زندگیاں کیسے بچائیں؟

پاکستانی ڈرائیور چلتی بس میں سوگیا تو طالبہ نے بس کو کنٹرول کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی ایک باہمت طالبہ نے ڈرائیور کے سوجانے پر چلتی بس کو کنٹرول کرکے المناک حادثے سے بچاتے ہوئے اس میں سوار 55 طالبات کی زندگی بچالی۔

اسکول کی طالبات کی زندگی بچانے میں ان کی مدد کرنے والی اسکیںڈری اسکول میں تیسری سال کی سعودی طالبہ فاطمہ نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہ مکہ مکرمہ گورنری میں گذشتہ اتوار کو اس وقت پیش آیا جب وہ اور دیگر پچپن طالبات امتحان کے بعد اپنے گھروں کو لوٹ رہی تھیں۔ وہ سب ایک بس میں سوار تھیں جسے ایک پاکستانی ڈرائیور چلا رہا تھا۔

فاطمہ نے بتایا کہ ڈرائیور بہت زیادہ تھکا ہوا تھا اور اس پرنیند کا غلبہ تھا۔ اس دوران اچانک بس سڑک سے ہٹنے لگی اور اس کا رخ ایک قریبی الیکٹرک روم کی طرف تھا۔ فاطمہ کا کہنا ہے کہ وہ صحرائی سفر کے دوران گاڑی چلانے کی تھوڑی بہت سوجھ بوجھ رکھتی تھی۔ اس لیے جب اس نے بس کو اپنے ٹریک سے ہٹتے دیکھا تو فوری لپک کر بس کو کنٹرول کیا اور اسے آگے چلانے کے بجائے عقبی گیر پر واپس کیا تاکہ بس بجلی کے کھمبے کے ساتھ ٹکرا کر رک جائے اور کسی بڑے حادثے سے محفوظ رہے۔

فاطمہ کی کوشش سے بس عقبی سمت میں بجلی کے ایک پول سے ٹکرا کر رک گئی اور یوں ساٹھ کےقریب طالبات کسی بڑے حادثے سے محفوظ رہیں اور ان کی جانیں بچ گئیں۔ فاطمہ کا کہنا ہے کہ وہ ڈرائیور کے برابر پیچھے والی سیٹ پر بیٹھی تھی، جب بس اپنے راستے سے ہٹنے لگی توطالبات نے چیخ پکار شروع کردی۔ مگر اس نے ہمت کرکے بس کا کنٹرول سنبھالا اور اسے پیچھے بجلی کے ایک کھمبے سے ٹکرا کر روک دیا۔

بس کے بجلی کے پول کے ساتھ ٹکر کررکنے کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جسے سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر فاطمہ کی ہمت اور حوصلے کی علامت قرار دیا گیا ہے۔

مکہ مکرمہ کے محکمہ تعلیم کی جانب سے فاطمہ اور ایک دوسری طالبہ کو طالبات کو حادثے سے بچانے کے اقدام پرانہیں اعزازی سرٹیفکیٹ بھی جاری کیے گئے ہیں جس میں ان کی بروقت کوشش کی تعریف کی گئی ہے۔ محکمہ تعلیم نے تمام ڈرائیور حضرات وقفے وقفے سے طبی معائنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔