خبردار! پانچ چیزوں کا روزانہ استعمال آپ کو بیمار کر سکتا ہے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

گئے وقتوں میں ذرائع ابلاغ میں لوگوں کے جبری وسوسوں کی کہانیاں بھی بیان کی جاتی تھیں۔ ایک مشہور موسیقار محمد عبدالوھاب پرمضر صحت جراثیم کے وساوس کچھ ایسے سوار ہوتے کہ کہا جاتا ہے کہ وہ صفائی کے لیے صابن کو بھی دوسرے صابن سے دھویا کرتے تھے۔

یہ بھی سنا گیا کہ کمپیوٹر کے ’کی بورڈ‘ کی سلوٹوں اور موبائل فون کی اسکرین پربھی جراثیم ہوتے ہیں۔

یہ تمام باتیں وساوس اور خود ساختہ پریشانی ہوسکتی ہے اور ہمارا مقصد کسی کو وسوسوں میں مبتلا کرنا نہیں، تاہم برطانوی اخبار ’ڈیلی میل‘ نے ایک رپورٹ میں سائنسی حقائق کی بنیاد پر بتایا ہے کہ پانچ چیزیں جنہیں ہم روزانہ استعمال کرتے ہیں ہماری صحت کے لیے نقصان دہ بن سکتی ہیں۔ ان پانچ چیزوں کا استعمال ممنوع نہیں البتہ ان کا طریقہ استعمال تبدیل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ روز مرہ کے استعمال سے یہ چیزیں جراثیم سے آلود ہوجاتی ہیں۔

ہم میں سے ہر ایک دن ایک سے زاید مرتبہ ٹوائلٹ کی سیٹ کا استعمال کرتا ہے مگر پریشان کن بات یہ ہے کہ ہم ٹوائلٹ کی سیٹوں کی صفائی کا خاطر خواہ خیال نہیں رکھتے۔

شاپنگ یا رقوم کے حصول کے لیے آج کل ٹچ اسکرین والی مشیوں اور اے ٹی ایمز سمیت دیگر آلات کا استعمال عام ہے۔ جب تک ہم ٹچ اسکرین کو خود نہیں چھوئیں گے وہ کام نہیں کرتی۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ان ٹچ اسکرین مشینوں کی روز مرہ کی بنیاد پر صفائی کی ضرورت ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ٹچ اسکرینوں کی صفائی میں بھی ہم اتنی غفلت برتے ہیں جتنا کہ ہم ٹوائلٹ کی صفائی میں لاپرواہی کرتے ہیں۔

جریدہ ’سائنس آف ایس‘ کے مطابق روز مرہ استعمال ہونے والی 50 فی صد اسکرینیں رطوبت اور جراثیم سے آلودہ ہوتی ہیں۔


جو لوگ گھروں یا دفاتر میں گراؤنڈ فلور کی لفٹ کا استعمال کرتے ہیں تو انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ سردی کے موسم میں لفٹ کے بٹن’پارا۔ انفلوئنزا‘ جیسے سردی کے جراثیم کا موجب بن سکتے ہیں۔


جب ہم بازار سے کوئی چیز خرید کرشاپنگ بیگ میں ڈالتے ہیں تو خالی ہونے کےبعد شاپنگ بیگ کو دوبارہ کسی اور مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ شاپنگ بینگ کے دوبارہ استعمال میں ہم صفائی کا کوئی اہتمام نہیں کرتے۔ جرہدہ ’سائنس آف ایس‘ کے مطابق99 فی صد استعمال شدہ شاپنگ بیگ’کولیفوریو‘ اور ’ایکولائی‘ جیسے جراثیم سے آلودہ ہوتے ہیں۔


گھروں میں تولیے کا مشترکہ استعمال کیا جاتا ہے۔ عموما ہم ہاتھ صاف کرنے کے بعد تولیے کو ایسے ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ گیلے تولیے میں کئی اقسام کے بیکٹیریاز جنم لیتے ہیں جو ایک سے دوسرے شخص میں منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تولیے کودو دن بعد ضرور دھو لینا چاہیے ورنہ اس کا استعمال بھی بیماریوں کا موجب بن سکتا ہے۔


دفاتر اور گھروں میں استعمال کے بعض برتوں کے دستے ہوتے ہیں۔ دفتر میں آنے والے لوگ خود کو دن بھر بیدار اور چست رکھنے کے لیے خود ہی کافی تیار کرتے ہیں اور اس مقصد کے لیے وہ دستے والے برتن استعمال کرتے ہیں۔

اس طرح جب ایک ہی برتن کو کئی افراد استعمال کریں گے تو ان برتنوں کے دستوں پر جراثیم پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ وہ کافی، چائے یا کسی دوسرے چیز میں منتقل ہو کر اسے استعمال کرنے والے تک پہنچ جائیں گے۔ جریدہ ’سائنس آف ایس‘ کے مطابق 50 فی صد برتنوں کے دستوں پر’کولیفورم‘ نامی جراثیم پیدا ہوتے ہیں۔ اس لیے استعمال سے قبل برتنوں کے دستوں کو ایک بار دھو لینا آپ کی صحت کے لیے زیادہ مفید ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں