سعودی خواتین کو دوسری شادی پر بھی بچے کی تحویل کا حق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی خواتین کو دوسری شادی کے بعد بھی بچے یا بچوں کو اپنی تحویل میں رکھنے کا حق حاصل ہوگیا ہے۔

سعودی خواتین کو یہ حق دلانے میں مملکت کی قومی سوسائٹی برائے انسانی حقوق نے اہم کردار ادا کیا ہے۔اس سوسائٹی کی ایک رکن ڈاکٹر سہیلہ زین العابدین نے بتایا ہے کہ گذشتہ سال کے دوران میں انھوں نے بہت سی مطلقہ ماؤں کو ان کے بچوں کی تحویل کا حق دلایا تھا۔ان میں سے بعض خواتین کو دوسری شادی کے بعد بھی یہ حق حاصل ہوگیا تھا۔

ڈاکٹر سہیلہ نے بتایا ہے کہ سوسائٹی کو عائلی امور سے متعلق موصول ہونے والی شکایات کی تعداد میں گذشتہ ہجری سال کے مقابلے میں کمی واقع ہوئی ہے۔ گذشتہ سے پیوستہ سال سوسائٹی میں ایسے 151 کیسوں کا اندراج کیا گیا تھا جبکہ گذشتہ سال ان کی تعداد کم ہوکر 135 رہ گئی تھی۔

انھوں نے خواتین میں اپنے حقوق سے متعلق شعور کی بیداری کو کیسوں کی تعداد میں کمی کی بڑی وجہ قرار دیا ہے اور بتایا ہے کہ اب خواتین سوسائٹی کو بیچ میں لائے بغیر ہی براہ راست عدالتوں سے رجوع کررہی ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ گذشتہ سال قومی سوسائٹی برائے انسانی حقوق کے پاس نان ونفقہ سے متعلق 31 کیس ، ماؤں کو اپنے بچوں سے ملنے سے روکنے کے 28 کیس ، تحویل کے 22 ، طلاق کے 18 ،شوہروں کے بیویوں کو چھوڑ جانے یا انھیں طلاق دیے بغیر ان سے ناتا توڑ لینے کے 14 اور وراثت سے متعلق 13 کیس دائر کیے گئے تھے۔

ڈاکٹر سہیلہ کا کہنا تھا کہ ''ہم ہمیشہ خاندانی تنازعات کو باہمی افہام وتفہیم کے ذریعے طے کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔خاص طور پر نان ونفقے ،بچوں کی تحویل یا خواتین کو شادی سے روکنے سے متعلق کیسوں کو متعلقہ فریقوں کی باہمی رضا مندی کے ذریعے طے کرنے کی کوششوں کی جاتی ہے اور بہت سے تنازعات متعلقہ حکام کی مدد سے پرامن طور پر ہی طے کر لیے جاتے ہیں۔

انھوں نے بچوں کی تحویل کے مقدمات کے خواتین کے حق میں فیصلوں پر ججوں کی تعریف کی ہے اور کہا کہ بچے عام طور پر اپنی ماؤں کے ساتھ ہی رہنا چاہتے ہیں۔

سعودی عرب کی ایک معروف قانونی مشیر لمیس الحرثی نے بھی عدالتوں کی جانب سے بچوں کی تحویل کے مقدمات میں طلاق یافتہ عورتوں کے حق میں فیصلوں کو سراہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ''ماضی میں خواتین دوسری شادی کے فوری بعد بچوں کی تحویل کے حق سے محروم کردی جاتی تھیں لیکن اب اپیل عدالتوں نے بھی ماتحت عدالتوں کے بچوں کو ماؤں کی تحویل میں دینے کے فیصلوں کی توثیق کی ہے اور انھیں کالعدم قرار نہیں دیا ہے۔

تاہم انھوں نے اس نکتے کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے کہ ''عورت کے نئے خاوند کو بھی اپنی بیوی کے سابق شوہر سے بچوں کی تحویل کی منظوری دینی چاہیے اور عدالتوں کو یہ باور کرایا جانا چاہیے کہ سوتیلا باپ بچوں کی ان کے حقیقی باپ کی بہ نسبت بہتر انداز میں نگہداشت نہیں کرسکتا ہے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں