.

گاڑی کی نمبر پلیٹ ’1‘ کا خریدار دھوکہ دہی کے الزام میں گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابو ظہبی میں جرائم کے مقدمات کی چھان بین کرنے والی عدالت میں ایک کاروباری شخص کو پیش کیا گیا جس الزام ہے کہ اس نے نیلامی کے دوران گاڑی کی نمبر پلیٹ ’1‘ ایک ایسے بنک اکاؤنٹ کے چیک سے خرید کی تھی جس میں سرے سے رقم ہی نہیں تھی۔ نمبر پلیٹ کے خریداری کی کوشش کی تھی وہ گراں قیمت نمبر پلیٹ خریدنے کے بعد اسے اپنی مرضی سے بھاری قیمت میں فروخت کر کے اس سے پیسے کمائے گا مگر اس کی جعل سازی پکڑی گئی۔

متحدہ عرب امارات سے شائع ہونے والے انگریزی اخبار ’گلف نیوز‘ کی رپورٹ کے مطابق جعلی چیک دینے والے ملزم کو منگل کے روز ابو ظہبی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

ملزم جس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی پر الزام ہے کہ اس نے گذشتہ برس ابو ظہبی میں منعقدہ ایک اوپن نیلامی کے دوران نمبر پلیٹ ’1‘ 31 ملین درہم کی قیمت میں خرید کی تھی مگر اس موقع پر اس نے جو چیک دیا تھا اس کے اکاؤنٹ میں رقم نہیں تھی۔ امریکی کرنسی میں یہ رقم 8.5 ملین ڈالر بنتی ہے۔

ملزم نے عدالت کے رو بہ رو بیان میں اعتراف کیا کہ وہ جانتا تھا کہ اس کے پاس نمبر پلیٹ کی مطوبہ قیمت نہیں مگر اس نے فیصلہ کیا تھا کہ نمبر پلیٹ حاصل کرنے کے بعد وہ اسے اپنی مرضی سے مہنگی قیمت میں فروخت کرکے واجب الاداء رقم بھی ادا کردے گا۔

خیال رہے کہ بمبر پلیٹوں کی نیلامی گذژتہ برس نومبر میں امارات کی نیلامی کمپنی اور دبئی پولیس کے اشتراک سے کی گئی تھی جس میں 50 ’وی آئی پی‘ نمبر پلیٹیں نیلامی کے لیے پیش کی تھیں۔

ان میں نمبر پلیٹ 1 کی آخری بولی ملزم نے 31 ملین درہم لگائی تھی۔اس سے قبل 750 افراد اس نمبر پلیٹ کی بولی میں شامل ہوچکے تھے۔ ایک ہفتے بعد معلوم ہواتھا کہ نمبر پلیٹ 1 کے خریدار کی طرف سے ادا کردہ چیک کے متعلقہ اکاؤنٹ میں بیلنس موجود نہیں ہے۔ اس کے بعد ملزم کو حراست میں لیا گیا اور اس پر جعلی چیک دینے اور دھوکہ دہی و فراڈ کےالزام میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔