.

خواتین میں شادی کے لباس کو جلانے کے رجحان میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

طلاق ایک ایسا تلخ تجربہ ہے جس کی کڑواہٹ کا اندازہ وہ ہی کر سکتا ہے جس نے اس تجربے کو سہا ہو۔ شادی کی ناکامی کا تجربہ سماجی رویوں میں تبدیلی کے پیش نظر مرد کے مقابلے میں عورت کے لیے زیادہ شدید اور کٹھن ہوتا ہے۔

دنیا بھر میں خواتین نے طلاق کی یادوں سے پیچھا چھڑانے کے لیے فرار کے راستے نکالنے کی کوشش کی اور سب نے ایک ہی طریقے میں اس کا حل پایا اور وہ یہ کہ شادی کے دن پہنے گئے لباس کو آگ لگا دی جائے۔

برطانوی اخبار ڈیلی میل کے مطابق کچھ عرصے سے طلاق پر مسرت کے اظہار کے لیے خصوصی تقریب منانے کا رجحان سامنے آیا ہے۔ اس موقع پر مطلقہ خاتون اپنی شادی کے لباس کو آگ کی نظر کر دیتی ہے جب کہ اس کے ساتھ شریک مہمان آگ کے شعلوں کو معروف مٹھائی "marshmallows" تیار کرنے کے واسطے استعمال میں لے آتے ہیں۔

سوشل میڈیا بالخصوص "انسٹاگرام" پر ان لمحات کے وڈیو کلپ اور تصاویر میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جن کے دوران خواتین یہ گمان کرتی ہیں کہ وہ ماضی کے بوجھ سے آزاد ہو چکی ہیں۔

طلاق پر مسرت کے اظہار کی تقاریب اب ایک رواج کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہیں۔ اس موقع پر شادی کے روز پہنے گئے لباس کو آگ کی نذر کرنے کے لیے محفوظ مقام اہم ترین پہلو ہوتا ہے۔

بہت سی خواتین کا خیال ہے کہ یہ رواج علاحدگی کے سبب ان پر مرتب ہونے والے منفی نفسیاتی اور سماجی اثرات کو زائل کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

بعض تقاریب کے موقع پر تو خواتین معاوضہ دے کر پیشہ ورانہ فوٹو گرافروں کی خدمات حاصل کرتی ہیں تاکہ شادی کے لباس کے جل کر خاکستر ہونے کے لمحات کو واضح طور پر محفوظ کیا جا سکے۔

ایک خاتون نے "انسٹاگرام" پر اپنی شادی کے لباس کو جلانے کی وڈیو پوسٹ کرنے کے بعد تبصرہ کیا کہ " اب میں بہتر حالت میں ہوں"۔

ایک دوسری خاتون نے باور کرایا کہ شادی کے لباس کو جلتا دیکھ کر اس نے مسرت اور سکون محسوس کیا۔

ایک اور خاتون نے شادی کے جلتے لباس سے اٹھتے ہوئے آگ کے شعلوں کو "آزادی کے شعلے" اور ایک " نیا آغاز" قرار دیا۔