.

سعودی شہری کا بھارتی کی رہائی کے لیے ابو ظبی کا سفر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ایک شہری نے انسانی ہمدردی کے تحت ایک زیر حراست بھارتی شہری کی رہائی کے لیے ابو ظبی کا سفر کیا ہے۔ اس سعودی کا اس بھارتی کے ساتھ تعلق محض یہ تھا کہ اس کے والدین سعودی عرب کے شمال مغربی شہر حائل میں اس سعودی کے خاندان کے ہاں گھریلوملازم کے طور پر کام کررہے ہیں۔

اس بھارتی کو اپنی کمپنی میں کام کی جگہ پر کسی تنازعے پر اپنے ایک ساتھی سے جھگڑنے پر جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔ وہ گذشتہ دو ماہ سے زیر حراست تھا مگر اس کے والدین یاسین اور انیسہ کو اس کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں تھی کہ وہ کہاں ہے اور کس حال میں ہے۔

بھارتی خاتون انیسہ نے اپنے سعودی آجر عيادہ خضير الرمالی سے اپنے بیٹے علی کی رہائی کے سلسلے میں مدد کی اپیل کی۔انھوں نے خاتون کی مدد کے لیے ابو ظبی کے سفر کی ہامی بھرلی اور کہا کہ وہ وہاں جا کر دیکھتے ہیں کہ وہ ان کی کیا مدد کرسکتے ہیں۔

عيادہ خضير الرمالی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا ہے کہ ''میں اپنے کزن کے ساتھ علی کی تلاش میں ابو ظبی گیا تھا۔ہمیں یہ بالکل بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کس جیل میں ہے۔اس کا اتا پتا پوچھتے ہم پہلے المصفح پولیس اسٹیشن پہنچے لیکن وہاں سے ہمیں کچھ مدد نہیں ملی۔پھر ہمیں ابو ظبی سے تیس کلومیٹر دور واقع ایک جیل کا پتا چلا ۔ہم وہاں گئے تو وہاں سے بھی علی کا کچھ پتا نہیں چلا تھا''۔

انھوں نے کہا کہ ''مزید کھوج لگانے سے ہمیں یہ پتا چل گیا کہ وہ اس وقت ایک حراستی جیل میں بند ہے۔علی ہمیں وہاں مل گیا اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اس کو اپنی کمپنی میں ایک پاکستانی ساتھی کارکن سے لڑائی کے بعد حراست میں لے لیا گیا تھا''۔

انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ وہ ضروری کاغذی کارروائی کی تکمیل کے بعد اس کمپنی کے دفتر میں گئے تا کہ مدعی پاکستانی ورکر سے الزامات واپس لینے کے لیے بات کی جاسکے لیکن وہاں جا کر پتا چلا کہ وہ تو چھٹی پر پاکستان گیا ہوا ہے۔

الرمالی نے بتایا کہ انھوں نے اس کے باوجود پاکستانی ورکر سے فون پر بات کی اور وہ بھارتی کے خلاف الزامات واپس لینے پر آمادہ ہوگیا لیکن ابو ظبی کے قانونی طریق کار کے تحت صلح نامے کی صورت میں دوسرے فریق کا بھی حاضر ہونا ضروری ہے۔

پھر سعودی شہری نے متعلقہ سکیورٹی حکام سے رابطہ کیا اور انھیں تمام صورت حال سے آگاہ کیا تاکہ وہ علی کو رہا کردیں مگر انھوں نے بتایا کہ قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے انھیں پاکستانی ورکر کی واپسی کا انتظار کرنا ہوگا تاکہ وہ متعلقہ حکام کے روبرو حاضر ہو کر اپنے الزامات واپس لے لے۔

اس تمام معاملے میں تعاون پر سعودی شہری عيادہ خضير الرمالی نے ابو ظبی کے سکیورٹی حکام اور اماراتی عوام کی تعریف کی ہے اور کہا کہ انھیں جب ہم نے بتایا کہ ہم اپنی گھریلو ملازمہ کے بیٹے کی رہائی کے سلسلے میں آئے ہیں تو انھوں نے ہمارے ساتھ بڑے اچھے طریقے سے برتاؤ کیا اور ہر ممکن تعاون کیا ہے۔