پاسدارانِ انقلاب ایران شیعہ ملیشیاؤں کو کہاں تربیت دیتے ہیں ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کی قومی کونسل برائے مزاحمت (این سی آر آئی) نے پاسدارانِ انقلاب کور کی القدس فورس کے چودہ تربیتی کیمپوں کا انکشاف کیا ہے جہاں شیعہ ملیشیاؤں کو تربیت دی جارہی ہے۔

این سی آر آئی کے مطابق پاسداران انقلاب کے ان تربیتی کیمپوں میں شام ،یمن ،لبنان ،عراق اور افغانستان سے تعلق رکھنے والی فرقہ وارانہ ملیشیاؤں کے ارکان کو تربیت دی جاتی ہے۔

این سی آر آئی کے امریکا میں نمائندے رضا جعفر زادے نے کہا ہے کہ ''ایران کا انتہا پسند رجیم خطے میں ہر طرح کی انتہاپسندی کی پشت پناہی کررہا ہے''۔

انھوں نے بتایا ہے کہ ایران کی مجاہدین خلق تنظیم نے ملک بھر میں پھیلے ہوئے تربیتی کیمپوں کی تفصیل کا انکشاف کیا ہے۔ان میں سب سے نمایاں القدس فورس کے زیر اہتمام ایک لاکھ مربع میٹر پر پھیلی ہوئی تربیتی نظامت ہے۔اس نظامت میں پاسداران انقلاب کے متعدد گیریژنز ہیں اور اس کے صدر دفاتر امام علی گیریژن میں واقع ہیں۔

اس نظامت کے ڈائریکٹر جنرل رحیمی ہیں جو پاسداران انقلاب کے بدنام زمانہ جنرل قاسم سلیمانی کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔جنرل رحیمی کے پیش رو پاسداران انقلاب کے کمانڈر بریگیڈئیر جنرل خسرو عروج تھے۔انھوں نے لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی اسرائیل کے ساتھ 33 روزہ جنگ میں بھی حصہ لیا تھا۔

شیعہ جنگجوؤں کو دی جانے والی تربیت دو مراحل پر مشتمل ہوتی ہے۔ پہلا مرحلہ 45 روز پر مشتمل ہوتا ہے اور اس کے تحت شام سے تعلق رکھنے والے ایجنٹوں کو تربیت دی جاتی ہے۔جن لوگوں کو القدس فورس میں مستقل طور پر بھرتی کیا جاتا ہے،انھیں نو سے بارہ ماہ تک نامعلوم مقامات پر اور یونٹوں میں تربیت دی جاتی ہے۔

گذشتہ چند برسوں کے دوران میں القدس فورس نے خفیہ طور پر لاطینی امریکا کے ممالک وینزویلا ،یوراگوئے ،پیرا گوئے اور بولیویا سے تعلق رکھنے والے خفیہ ایجنٹوں کو امام علی گیریژن میں تربیت کے لیے بھرتی کیا گیا ہے۔

القدس فورس کے تحت قائم تربیتی کیمپوں میں امام علی گیریژن ،مسطح خمینی گیریژن ،ورمین میں واقع بعد یندہ مرکز ،ملک اشتر کیمپ میں واقع عامل مرکز ،مشہد مرکز ، پاژوکی گیریژن ،لاؤشان گیریژن ،چامران گیریژن ،ٹیلی کیبن ایکس ،آبادان اور اہواز شہروں کے علوہ شہریار گیریژن شامل ہیں اور ان میں جنگجوؤں کی تربیت کے لیے مراکز قائم ہیں۔

جعفرزادے نے اپنی نیوز کانفرنس میں جوہری ہتھیاروں کے بارے میں گفتگو کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ پاسداران انقلاب سنہ 1984ء سے جوہری ہتھیاروں کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔انھوں نے کہا کہ پاسداران انقلاب کور دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو برآمد کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں اور یہ ایک جوہری بم کے حصول سے زیادہ خطرناک ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایرانی آئین کی دفعہ 151 پاسداران انقلاب کور پر ایرانی انقلاب اور اس کی کامیابیوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔اس لیے وہ ایک ایسی آمریت کا تحفظ کرتا ہے ، جو جبرواستبداد پر مبنی ہے اور وہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کو برآمد کررہی ہے جبکہ وہ جوہری بم کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں