.

کیا آپ چوتھائی صدی سے "خاموش" سوڈانی عالم کو جانتے ہیں ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان سے تعلق رکھنے والے 60 سالہ عالم اور فقیہ بشیر محمد عرف "الشیخ الصامت" (خاموش شیخ) نے گزشتہ 25 برسوں سے بھی زیادہ عرصے سے اپنی زبان کو بولنے سے روک رکھا ہے۔ اس منفرد فعل کے حوالے سے وہ اپنا فلسفہ اور ذاتی رائے رکھتے ہیں۔

شیخ بشیر لوگوں کے ساتھ ملاقات میں قلم اور کاغذ کا استعمال کرتے ہوئے ان کے ساتھ گفتگو کرتے ہیں۔ وہ سیمیناروں ، کانفرنسوں اور ٹی وی انٹرویو میں بھی یہ ہی طریقہ اپناتے ہیں۔ چُپ کا روزہ رکھنے کے علاوہ بھی شیخ بشیر کی شخصیت کافی خصوصیات کی حامل ہے۔ انہوں نے کم کھانے کی عادت اپنا کر خود کو چند لقموں تک محدود کر رکھا ہے۔

شیخ بشیر 1956 میں سوڈان کے صوبے شمال کردفان کے گاؤں ام سریحہ میں ایک دین دار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سوڈان میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے فرانس میں سوربون یونی ورسٹی سے گریجویشن کیا اور پھر معاشیات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ اس دوران انہوں نے فرانسیسی ، ہسپانوی اور عبرانی زبانیں سیکھیں۔ اس کے بعد شیخ بشیر کی زندگی نے ایک بڑا موڑ لیا اور انہوں نے سوڈان میں ایک بڑے عالم دین شیخ عبد الرحيم البرعی کی خانقاہ میں ان کی شاگردی اختیار کر لی۔ وہ وہاں 1978 سے 1996 تک رہے۔

فرانس سے لوٹنے کے بعد شیخ بشیر نے جو عرصہ سوڈان میں شیخ البرعی کی خانقاہ میں گزارا اس نے بشیر کے طرز فکر کو یکسر تبدیل کر دیا۔ وہ دینی علوم اور تصوف کی طرف راغب ہوئے اور ان کے دل سے سوربون کی زندگی کے اثرات مکمل طور پر زائل ہو گئے۔ شیخ البرعی کی صحبت میں رہتے ہوئے شیخ بشیر نے 1990 میں اپنے ارادے سے بولنے کا سلسلہ روک دیا۔ شیخ کا کہنا ہے کہ جب اللہ تعالی چاہیں گے تو وہ بولنا شروع کر دیں گے۔

شیخ بشیر عام لوگوں کی طرح تمام سماجی تقریبات میں شریک ہوتے ہیں۔ وہ ٹی وی پروگرام دیکھنے اور ریڈیو چینلوں کو سننے کے علاوہ کتابوں ، اخبارات اور رسالوں کا مطالعہ بھی کرتے ہیں۔ تاہم قرآن کریم کی تلاوت اور مدائح نبوی سننا شیخ کو سب سے زیادہ پسند ہے۔

خاموشی کا فلسفہ

خاموشی کے فلسفے کے بارے میں شیخ بشیر نے لکھ کر بتایا کہ عموما "خاموشی کا آغاز کلام کے اختتام سے ہوتا ہے" مگر ان کا خاموشی کا تجربہ پراسرار نوعیت کا ہے۔ شیخ اسے بڑی حد تک اپنے خالق کے ساتھ تعلق کا "خصوصی راز" قرار دیتے ہیں۔ ان کے خیال میں اللہ تعالی جب کسی انسان کے لیے خیر کا فیصلہ فرماتے ہیں تو اسے خاموش کر دیتے ہیں۔

شیخ بشیر کے بارے میں بہت سے تحقیقی مضامین بھی لکھے جا چکے ہیں۔ سوڈان ٹی وی نے 2000ء میں ان کا اںٹرویو کیا تھا۔ یہ پہلا موقع تھا جب انہوں نے میزبان کے تمام سوالات کے جوابات کاغذ پر تحریر کر کے دیے۔ شیخ بشیر کے مطابق خاموشی اختیار کرنے سے دل میں علم و حکمت کے چشمے پھوٹتے ہیں جب کہ فضول گوئی انسان پر آفات اور مصائب لاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تجربے کے آغاز کے بعد سے انہیں ذہنی سکون حاصل ہو گیا ہے جب کہ ندامت ان سے دور چلی گئی ہے کیوں کہ ندامت گفتگو کے ساتھ ہی آتی ہے۔