سینے کے باہر دل کے ساتھ زندگی گزارنے والی روسی بچّی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سینے کے باہر دل کے ساتھ پیدا ہونے والی سات سالہ روسی بچی ویرسافیا بورن اس امید کے ساتھ امریکا پہنچی ہے کہ اس کا ایک آپریشن ہو جس کے بعد وہ عام انسانوں کی طرح زندگی گزار سکے۔

طبی ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں ہر 10 لاکھ میں سے صرف 5 افراد اس نادر مسئلے سے دوچار ہوتے ہیں۔ بورن کی پیدائش کے وقت ہی ڈاکٹروں نے اس کے والدین کو واضح کر دیا تھا انہیں بدترین صورت حال کے لیے ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے تاہم تمام تر مسائل کے ساتھ ابھی تک کا وقت خیریت سے گزر گیا ہے۔

بورن کو حال ہی میں امریکا منتقل کیا گیا ہے تاکہ اس کے بلند فشار خون کو کم کرنے کے لیے علاج فراہم کیا جائے.. اس امید پر کہ یہ پیش رفت بعد ازاں ایک آپریشن کے کیے جانے میں مددگار ثابت ہوگی جس سے بورن کی زندگی موجودہ حالت سے بہت بہتر ہو جائے گی۔

بچی نے برطانونی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ " یہ رہا میرا دل.. میں اس طرح جینے والی واحد انسان ہوں۔ میں چل سکتی ہوں ، اچھل سکتی ہوں یہاں تک کہ دوڑ بھی سکتی ہوں مگر میری آرزو ہے کہ میں خوب تیز چل سکوں اور اڑان بھروں"۔

بون کا کہنا ہے کہ وہ صرف ہلکے پھلکے کپڑے پہنتی ہے تاکہ اس کا دل متاثر نہ ہو۔

روس میں بورن کی پیدائش کے موقع پر ڈاکٹروں نے اس کی ماں سے کہا تھا کہ تمہاری بیٹی نادر صورت حال سے دوچار ہے اور وہ زیادہ عرصہ نہیں جی سکے گی۔

بورن کی ماں نے بتایا کہ " میں نے پہلی مرتبہ اس کے دل کو سینے سے باہر دیکھا تو بہت تکلیف پہنچی تاہم کم از کم وہ سانس لے سکتی تھی جس کا مطلب تھا کہ وہ جینے کی قدرت رکھتی ہے"۔

بورن کا گھرانہ اس سے قبل بھی امریکا کا سفر کر چکا ہے تاہم اس وقت ڈاکٹروں نے کہہ دیا تھا کہ بچی کا خون کا دباؤ بہت بڑھا ہوا ہے اور ایسے میں کچھ نہیں کیا جا سکتا"۔

بورن کی ماں کا کہنا ہے کہ " میری بیٹی کا سینے کے باہر دل کے ساتھ مناسب طور جینا ممکن نہیں ہے اس لیے کہ اس کی حالت کو ممکنہ طور پر خطرات درپیش رہتے ہیں۔ لہذا اس کی انتہائی دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے ۔ مثلا اگر وہ گر پڑتی ہے تو صورت حال خراب ہو جائے گی اور ہو سکتا ہے کہ اس کی جان بھی چلی جائے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں