.

نئی اُڑن گاڑی عنقریب ٹریفک کے مسئلے پر قابو پالے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپ میں گاڑیاں تیار کرنے والی ایک کمپنی (PAL-V)نے اُڑنے والی ایک نئی گاڑی تیار کی ہے۔ ہالینڈ کی کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نئی اُڑن گاڑی کو 2018 کے اواخر میں سڑک پر استعمال کے لیے پیش کیا جائے گا۔ تاہم کمپنی کو صارفین کی جانب سے پیشگی آرڈر ملنا شروع ہو گئے ہیں۔ فی الوقت گاڑی کی قیمت 6 لاکھ ڈالر ہے البتہ کمپنی کا اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ آنے والے وقتوں میں یہ قیمت کم ہوجائے گی۔

برطانوی اخبار " ڈیلی میل" کی رپورٹ کے مطابق یہ اڑن گاڑی روایتی اور ماحول دوست دونوں طرح کے ایندھنوں کے ساتھ کام کرتی ہے اور اس میں صرف دو افراد بیٹھ سکتے ہیں۔ گاڑی کی زیادہ سے زیادہ رفتار 180 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے اور اسے فضا میں چار ہزار فٹ کی بلندی تک لے جایا جا سکتا ہے۔

کمپنی کے مطابق اڑن گاڑی کو عام روایتی گاڑیوں کی طرح سڑکوں پر چلایا جا سکتا ہے اور ٹریفک کے رش سے بچنے کے لیے اڑنے والی گاڑی میں بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ زمینی گاڑی سے اڑن گاڑی میں بدلنے کے لیے سواری کو دس منٹ درکار ہوتے ہیں۔

اس وقت مذکورہ اڑن گاڑی کے پہلے ایڈیشن کی قیمت 6 لاکھ ڈالر ہے تاہم کمپنی کے اعلان کے مطابق اگلے ایڈیشنوں میں یہ قیمت 4 لاکھ ڈالر تک ہو جائے گی۔

کمپنی کے چیف ایگزیکٹو ڈینگمائز کا کہنا ہے کہ کئی برسوں کی دشوار گزار محنت کے بعد کمپنی نے تکنیکی چیلنجوں پر قابو پالیا اور ہماری ٹیم ایسی اڑن گاڑی تیار کرنے میں کامیاب ہو گئی جو سلامتی کے مطلوب معیار پر پورا اترتی ہے۔ ڈینگمائز کے مطابق اس گاڑی کے پہلے نمونے کا تجربہ 2009 میں کیا گیا تھا۔ اس کے بعد 2012 میں ایک دوسرے نمونے کے تجربات کیے گئے اور پھر گاڑی کو باقاعدہ طور پر تیار کرنے کا کام شروع کیا گیا۔

ہالینڈ کی کمپنی کے اس نئی دریافت میں کامیاب ہوجانے کی صورت میں نتیجتا عالمی سطح پر گاڑیوں کی صنعت کے سیکٹر میں ایک بڑی تزویراتی تبدیلی آئے گی۔ بعد ازاں اس سیکٹر کی دیگر کمپنیاں بھی مماثل نوعیت کی گاڑیاں تیار کرنے پر مجبور ہوجائیں گی۔