نازی عقوبت خانے میں پولش خواتین کے پیشاب سے لکھے مکتوبات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پولینڈ کے ایک عجائب گھر کو دوسری جنگ عظیم کے دوران نازی جرمنوں کے قائم کردہ فوجی حراستی مرکز میں قید خواتین کے 27 مکتوبات ملے ہیں۔ ان میں سے بیشتر مکتوبات پیشاب سے لکھے گئے ہیں، جن میں قیدی خواتین نے جیل میں خواتین پر کیے جانے والے ہولناک طبی تجربات سے پردہ اٹھایا تھا۔

خبر رساں اداروں کی روپورٹس کے مطابق پیشاب سے لکھے گئے چونکا دینے والے مکتوبات میں بتایا گیا ہے کہ جرمن نازیوں نے ’رافنز بروک‘ نامی ایک فوجی کیمپ میں پولینڈ کی 74 خواتین کو 1943ء اور1944ء کے عرصے میں پابند سلاسل رکھا اور ان پر مہلک قسم کے طبی تجربات کئے جاتے رہے ہیں۔

ان میں سے بعض مکتوبات کرسٹینا سیچ فیلگات نامی خاتون قیدی کے خاندان نے میوزم کو پیش کیے ہیں۔ جن میں سے بیشتر خطوط انتہائی تکلیف دہ حالت میں تحریرکئے گئے، تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا مذکورہ حراستی مرکزمیں قید خواتین کے تمام مکتوبات کو مشرقی پولینڈ میںقائم لوبلین میں ’شہدا میوزیم‘ رکھا جائے گا یا نہیں۔

کاغذ پر ایسیڈک تعامل کے نتیجے میں پیشاب کا رنگ فوری زائل ہوگیا جس کے نتیجے میں بہت سے خطوط پڑھے نہیں جاسکتے۔

پہلا مکتوب انتباہی انداز میں لکھا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ اس کے بعد آنے والے مکتوبات پیشاب سے لکھے گئے ہوں گے۔

ان رسائل کے ذریعے یہ پتا چلا کہ جرمن نازی حراستی مراکز میں قیدیوں پر طبی تجربات کرتے رہے ہیں۔ ایک کیمپ میں 74 خواتین گرگرینا کےنام سے مشہور دوائی ایک انجکشن کے تجربے سے گذارا گیا۔

میوزیم کی خاتون ڈائریکٹر باربرا اوراٹوفسکا کا کہنا ہے کہ جرمنی کے اوشیفتر حراستی مرکز کے بارے میں بہت سی رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں مگر ’رافنزبروک‘ کے بارے میں کے اندر کی معلومات بہت کم ملی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں