.

خوش خبری.. آئندہ 10 برسوں میں نزلہ زکام کو خیرباد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سائنس دانوں کی جانب سے سامنے آنے والی ایک بہت بڑی پیش رفت میں کہا گیا ہے کہ آئندہ 10 برسوں میں نزلہ اور زکام پر قابو پا لیے جانے کا قوی امکان ہے۔ یہ اعلان وائرس کو شکست سے دوچار کرنے کا موقع فراہم کرنے والے کوڈ کی دریافت کے بعد کیا گیا ہے۔

برطانوی اخبار "ڈیلی میل" کی رپورٹ کے مطابق اس نزلہ اور زکام کا سبب بننے والے عوامل کا کوئی علاج نہیں پایا جاتا جو دو ہفتوں تک جاری رہ سکتا ہے۔ اس وقت علاج کی غرض سے استعمال میں آنے والی دوائیں مذکورہ عوامل میں محض تخفیف کے کام آتی ہیں۔

سائنس دانوں کی جانب سے نزلے زکام کا سبب بننے والے وائرس ""Parechovirus کی دریافت کے بعد اب یہ جاننا ممکن ہو گیا کہ وہ کمزوری کے اُس نقطے کا پتہ چلا سکیں جس کے ذریعے نزلے کے وائرسوں کو مات دی جا سکتی ہے۔

اس اہم پیش رفت کے نتیجے میں ایسی دوا تیار کی جاسکتی ہے جو لوگوں کو نزلے سے دوچار ہونے سے تحفظ فراہم کرے گی ی یا متاثرہ حالت کو جلد از جلد ختم کرنے میں کامیاب ہوگی۔

نیویارک یونی ورسٹی کے پروفیسر ریڈان ٹویرک کا کہنا ہے کہ نزلے اور زکام سے دنیا بھر میں سالانہ ایک ارب سے زیادہ افراد متاثر ہوتے ہیں جس نے اس کو وائرس کے ذریعے متاثر کرنے والا ایک سب سے بڑا مرض بنا دیا ہے۔

نزلے کے وائرس کی تین اقسام ہیں جب کہ اس وائرس کی تقریبا 200 نوعیتیں ہیں۔ اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ موسم سرما میں لوگوں کی بڑی تعداد اس سے کیوں متاثر ہوتی ہے۔

اس وائرس سے متاثر مریض سالانہ اربوں ڈالر کھانسی ، نزلے زکام اور گلے کے درد اور کھنچاؤ کی دوائیں خریدنے پر خرچ کر ڈالتے ہیں۔

کچھ عرصہ قبل یارک ، لیڈز اور ہیلسینکی کی یونی ورسٹیز میں محققین نے ایسے بہت سے اشارے دریافت کیے ہیں جو کسی ایک جگہ پر نہیں بلکہ پورے وائرس کے اندر پھیلے ہوئے ہیں۔

محققین کی ٹیم کا کہنا ہے کہ Parechovirus وائرس کا "enigma code" کھولنے کے بعد اس کی فعالیت کو معطل کیا جا سکتا ہے.. اور اسی تجربے کو نزلے زکام کا سبب بننے والے عام وائرس پر بھی لاگو کیا جا سکتا ہے۔

لیڈز یونی ورسٹی کے پروفیسر پیٹر اسٹاکلے کا کہنا ہے کہ " وائرس کی کوڈنگ سوئٹزرلینڈ کی گھڑی کے دندانے دار پہیے کی طرح کام کرتی ہے"۔ انہوں نے کہا کہ " ہمیں اب ایک ایسی دوا کی ضرورت ہے جس کا اثر ویسا ہو جو کہ گھڑی کے اندر ریت ڈال دینے کا ہوتا ہے یعنی کہ وائرس کے میکینزم کے اندر ہر حصے کو ناکارہ بنا دیا جائے"۔

سائنس دانوں کے اس انکشاف کو آگے کی جانب ایک بڑا اقدام شمار کیا جا رہا ہے جو اس وقت نزلہ زکام کو پھیلنے سے روکنے کے لیے کی جانے والی ہدایات (ہاتھ دھونے اور رومال میں چھینکنے) سے کہیں زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔