.

طلاق کے بعد پہلی رات کیسے گذری؟ سعودیوں کے تاثرات!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

میاں بیوی میں طلاق اگرچہ اسلامی شریعت میں مباح ہے مگر یہ عمل اللہ کے ہاں جائز ہونے کے باوجود پسندیدہ ہرگز نہیں۔ گھریلو ناچاقیاں اور بعض دیگر اسباب میاں بیوی کےدرمیان طلاق کا موجب بنتے ہیں۔ بعض اوقات شوہر غصے اور جذبات میں بیوی کوطلاق دے ڈالتے ہیں مگر بعد میں ان کے پاس سوائے پچھتاوے اور افسوس کے کچھ باقی نہیں رہتا۔

چونکہ طلاق کا تناسب سعودی عرب میں بھی غیرمعمولی حدوں کو چھو رہا ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ نے بیویوں کو طلاق دینے والے سعودی مردوں کے تاثرات پر مبنی ایک رپورٹ مرتب کی ہے۔ اس رپورٹ میں ان سعودی مردوں کے خیالات اور تاثرات شامل کیے گئے ہیں جو طلاق کے عمل سے گذرے یا اس کا تجزبہ رکھتے ہیں۔

ان سعودی مردوں کے حالات وخیالات جاننے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان میں سے بیشتر اپنے کیے پر سخت شرمسار ہیں اور ایک ’غلط‘ فیصلہ کرنے کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔

ان کے بیانات اور خیالات سے ان کی افسردگی، شرمندگی اور پریشانی صاف دکھائی دیتی ہے۔ بلا شبہ طلاق ایک ایسا عمل ہے جس کے منفی اثرا جدا ہونے والے دونوں افراد[ مرد ، عورت] پر تا حیات قائم رہتے ہیں اور وہ منفی اقدام کے نفسیاتی اثرات سے اپنی جان نہیں چھڑا سکتے۔

طلاق کے بعد کے ابتدائی ایام تو جدا ہونے والے مردو زن کے لیے زیادہ تکلیف دہ اور مشکل ہوتے ہیں۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے سعودی مردوں نے بتایا کہ انہوں نے طلاق کا فیصلہ اپنی مرضی سے کیا مگر طلاق کے بعد آنے والی شب وہ اپنے بیڈ روم میں داخل ہوئے تو کمرہ استراحت ان کا منہ چڑتا، انہیں اپنے کیے پر خفت اور شرمندگی کا احساس ہوتا۔

تین طلاقیں اور شرمندگی

طلاق کے عمل سے گذرنے والے ’ابو نایف‘ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم شادی کے بعد چار سال تک ایک دوسرے کے ساتھ رہے۔ میں غصے میں بہت جذباتی تھا اور غصے پر قابو پانے میں ناکامی میرے غلط فیصلوں کا موجب بنتی تھی۔ اس دوران کئی بار بیوی کے ساتھ لڑائی ہوئی۔ آخر کار میں نے بیوی کو تین طلاقیں دے کر اسے اپنے سے دور کردیا۔ میں اس وقت نہیں جانتا تھا کہ اس واقعے کے بعد میں زندگی کیسے گذاروں گا۔

میں اپنے بہن بھائیوں اور ماں کی طرف سے خاندانی امور میں مداخلت سے اکتا گیا تھا۔ ہر چھوٹا اور بڑا اپنا حکم چلاتا۔ خواتین ہمارے نجی فیصلوں میں مداخلت کرتے۔ میں بہت تنگ آگیا تھا۔ اس کے بعد میں نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس کے نتیجے میں میں ایک نئے دباؤ کا شکار ہوگیا۔ آج میں بہت شرمندہ ہوں۔

بیوی کی ماں نے زندگی اجیرن بنا دی

ابو نایف نے بتایا کہ آج میں سوچتا ہوں کہ طلاق کا سبب میری بیوی نہیں تھی بلکہ اس کی وجہ بیوی کی ماں کی طرف سے ہماری نجی امور میں دخل اندازی طلاق کی سب سے بڑی وجہ تھی۔ میری ساس نے گھر بسانے میں مدد کرنے کے بجائے ہماری زندگی اجیرن بنا دی تھی۔ وہ اپنا ہر فیصلہ ہمارے اوپر مسلط کرنے کی کوشش کرتی۔

ایک سوال کے جواب میں ابو نائف اپنی سابقہ بیوی کو یاد کرتے ہوئے رو دیے۔ انہوں نے کہا کہ عبیر[مطلقہ] محبت کرنے والی اور انتہائی نرم دل خاتون تھی۔ ایک بار میں بیمار ہوا تو وہ رات بھر بے چینی رہی۔ میں بے ہوش ہوگیا، جب ہوش میں آیا تو وہ کمرے کے ایک کونے میں بیٹھی رو رہی تھی۔ مجھے ہوش میں آتے دیکھ کر میری طرف لپکی اور میرا بخار چیک کرنے لگی۔

جب وہ پہلے بچے کی حاملہ تھی تو اس نے مجھے سے عجیب سوال پوچھا۔ اس نے کہا کہ ’فرض کرو میں مرجاؤں مگر بچہ پیدا ہونے کے بعد سلامت رہے تو آپ کے کیا جذبات ہوں گے؟۔ کیا آپ میرے بغیر زندگی جی سکیں گے؟َ تو میں نے اسے کہا کہ اللہ کی قسم آپ کے بغیر نہیں رہ سکوں گا۔ میں تمہارے بغیر ایک رات بھی نہیں گذار سکوں گا۔

اپنی بات کو سمیٹتے ہوئے ابو نایف نے کہا کہ بہت سے امور میں ہمارے درمیان اختلاف رہتا۔ ایک بار اختلاف اس حد تک بڑھا کہ اس نے مجھ سے طلاق مانگ لی، اس نے مجھے چیلنج کیا کہ میں اسے طلاق دے ڈالوں۔ میں نے اس کی بات کو مذاق سمجھا مگر اگلے لمحے میں اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا۔ اب وقت ہاتھ سے جا چکا ہے۔ میں اپنے ماضی سے بہت دل گرفتہ ہوں۔

’بچے کی پکار اور میرا رونا‘

ابو نایف کی طرح سعودی عرب کے ایک محمد عبدالرحمان نامی نوجوان بھی طلاق کے واقعے سے گذرے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ہم شادی کے بعد تین سال ہی اکھٹے رہ سکے۔ اس دوران ایک بچہ بھی ہوا جو اب اپنی والدہ کے ساتھ ہی ہے۔

محمد عبدالرحمان نے بتایا کہ طلاق کا فیصلہ اگرچہ اس کا تھا مگر درحقیقت یہ تقدیر کا فیصلہ تھا۔ طلاق دینے کے بعد سابقہ بیوی نے ایک اور شخص سے شادی کرلی ہے۔

عبدالرحمان نے کہا کہ مجھے طلاق کے بعد اپنے کیے پر بہت افسوس ہے۔ اگر مجھے یہ پتا ہوتا کہ طلاق کے بعد لڑکی کسی اور شخص سے شادی کرے گی تو وہ اسے کبھی طلاق نہ دیتا بلکہ معلق رکھتا یہاں تک کہ وہ راہ راست پر اجاتی۔

اس نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل میں اپنی کالونی کے ایک بڑے بازار سے گذر رہا تھا کہ اچانک ایک بچے نے مجھے آواز دی’پاپا آئیں ہمارے پاس بیٹھیں‘ میں نے دیکھا تو یہ میرا ہی بچہ ’عبودی‘ تھا جو اپنی ماں اور سوتیلے باپ کے ہمراہ بازار سے گذر رہا تھا۔ میں نے اپنا منہ رومال میں چھپالیا اور شرمندگی کے باعث زمین میں گڑھ گیا۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں یہاں سے کیسے نکل کر اپنی گاڑی تک پہنچوں اور ان سے دور ہوجاؤں۔ میں بچوں کی طرح زار وقطار رو رہا تھا اور لوگ میرا تماشا دیکھ رہے تھے۔

بیوی کی پٹائی اور شرمندگی

محمد عبدالرحمان نے بتایا کہ میں میری شادی کم عمری میں کرادی گئی تھی۔ میں رات کو زیادہ دیر بیدار رہتا، سفر میں ہوتا اور دوستوں کے ساتھ گھومنے پھرنے نکل جاتا۔ یہ تمام باتیں بیوی کے ساتھ اختلافات کا موجب بنتی رہیں اور ہمارے درمیان اختلافات شدت اختیار کرتے چلے گئے۔ ہرآنے والی بار ہماری آوازیں ایک دوسرے کے خلاف اونچی ہوتی چلی گئیں اور ہماری لڑائی کے چرچے گھر سے باہر نکل کر محلے تک جا پہنچے۔ ہماری لڑائی اس حد تک پہنچی کہ میں نے بیوی کو بری طرح مارا پیٹا۔ مگر آج میں اپنے کیے پر شرمندہ ہوں۔ میں نے بیوی کی ناپسندیدہ باتوں پر اسے جو سزا دی وہ غلط تھی۔ میں اپنے بچے کو ماں سے دور نہیں رکھنا چاہتا تھا۔ اس لیے میں نے اسے ماں کے سپرد کردیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے توسط سے محمد عبدالرحمان نے طلاق کی منصوبہ بندی کرنے والے نوجوانوں کو برداشت کا مشورہ دیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ میں بہت شرمندہ ہوں۔

طلاق کے اعدادو شمار

عرب ممالک میں طلاق کی شرح میں غیرمعمولی حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ سعودی وزارت انصاف کے مطابق سنہ 2015ء کے دوران سعودی عرب میں طلاق کے 40 ہزار واقعات کا اندراج کیا گیا۔ ان میں فسخ نکاح اور خلع کے واقعات بھی شامل ہیں۔