.

دل لگی کا سبب بننے والے بچوں کے تجزیہ کار والد کا جواب !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گزشتہ ہفتے برطانوی نشریاتی ادارے "بی بی سی" کے ساتھ سیاسی تجزیہ کار رابرٹ کیلی کی گفتگو کی وڈیو کو ریکارڈ تعداد میں دیکھا گیا۔ وڈیو کی دل چسپ بات یہ تھی کہ براہ راست گفتگو کے دوران کیلی کے دو بچوں نے کمرے میں دھاوا بول دیا۔ اس کے نتیجے میں خالص سیاسی نوعیت کی بات چیت "ظرافت کے حامل ایک گھریلو منظر" میں تبدیل ہو گئی۔ مزید برآں یہ کہ بچوں کی ماں نے براہ راست نشریات کے دوران ہی بچوں پر جھپٹ کر انہیں کمرے سے باہر نکالا !

جنوبی کوریا کے امور کے خصوصی ماہر رابرٹ کیلی نے اپنی نئی وڈیو میں سابقہ وڈیو کے ناظرین کی جانب سے اٹھائے جانے والے بعض سوالات کا جواب دیا ہے۔ بالخصوص چند لوگوں نے تو یہاں تک کہہ ڈالا کہ گفتگو کے وقت رابرٹ سوتے وقت استعمال کیا جانے والا "پاجامہ" پہنے ہوئے تھے اسی وجہ سے وہ اپنی جگہ سے نہیں اٹھے اور کسی قسم کے ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔

کیلی نے ازراہ مذاق کہا کہ اُن کو ساری فکر اس بات کی تھی کہ ایسا نہ کہ "بی بی سی" اُن سے دوبارہ رابطہ نہ کرے اور اس واقعے کے سبب فریقین کے درمیان تعلق منقطع ہو جائے۔

کیلی کے مطابق انہوں نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ مل کر اس وڈیو کلپ کو کئی مرتبہ دیکھا اور اسے بہت ہی نرالا پایا۔

رابرٹ کیلی کا کہنا ہے کہ وڈیو میں نظر آنے والی خاتون اُن کی اہلیہ جونگ اے کِم ہیں جن کے حرکت میں آنے کے انداز سے یہ وڈیو ناظرین کے لیے مزید دل چسپ ہو گئی۔ اس حوالے سے کِم نے کہا کہ "میں حقیقت میں ان کی بیوی ہوں" اور وڈیو کے مزاحیہ پہلو پر توجہ مرکوز رکھی۔