.

زندہ بلی کتوں کے آگے ڈالنے والوں کو دبئی کے حکمران نے کیا سزا دی؟

بے زبان حیوانوں کو اذیت پہنچانے والے خود عبرت کا نشان بن گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیر اعظم اور حاکم دبئی الشیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے بلی کو تشدد کا نشانہ بنانے اور زندہ بلی خون خوار کتوں کے آگے ڈالنے کے جرم میں ملزمان کو تین ماہ تک روزانہ چار گھنٹے چڑیا گھر میں صفائی کی سزا کا حکم دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حال ہی میں سوشل میڈیا میں متحدہ عرب امارت میں ایک شخص نے ایک فوٹیج پوسٹ کی تھی جس میں ایک شخص کو بلی پر تشدد کرنے اور اسے زندہ حالت میں کتے کے آگے ڈالنے کے مناظر دکھائے گئے تھے۔ اس واقعے نے لوگوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

جب یہ خبر نائب صدر اور حاکم دبئی الشیخ محمد بن راشد آل مکتوم تک پہنچی تو انہیں بھی اس کا سخت صدمہ ہوا۔ انہوں نے بے زبان حیوان کو اذیت پہنچانے کے مرتکب افراد کو گرفتار کرکے ان کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم دیا گیا۔

اماراتی خبر رساں ادارے ’وام‘ کے مطابق ملزمان نے بلی کو اذیت دینے اور اسے زندہ کتے کے آگے ڈالنے کے جرم کا اعتراف کیا جس کے بعد انہیں سوشل سروس کی نوعیت کی سزا دی گئی ہے۔ حکام دبئی کی طرف سے حیوان پر وحشیانہ تشدد کے مرتکب افراد کو مسلسل تین ماہ تک ایک چڑیا گھر میں روزانہ چار گھنٹے صفائی ستھرائی کا کام سونپا گیا ہے۔

دبئی پولیس نے ملزمان کی صحیح تعداد ظاہر نہیں کی تاہم ایک چڑیا گھر میں صفائی میں مصروف تین افراد کو خاکروبوں کی وردی میں کام کرتے دکھایا گیا ہے۔ بہ ظاہر لگتا ہے کہ انہی تین درندہ نما انسانوں نے ایک زندہ بلی کتے کے آگے ڈال دی تھی۔

درایں اثناء دبئی پولیس چیف میجر جنرل عبداللہ خلیفہ المری نے حاکم دبئی الشیخ محمد کی طرف سے ملزمان کو سماجی خدمت کی سزا کو سراہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بلی کو اذیت پہنچانے میں ملوث افراد کو دی گئی سزا پر مکمل عمل درآمد کرایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے بے رحم لوگوں کو نشان عبرت بنانے کے لیے ایسی سزا دینا ضروری تاکہ وہ آئندہ ایسے کسی سنگین جرم کا ارتکاب نہ کر سکیں۔