.

جاپانی سائنس داں نے سعودی خاتون پروفیسر کو "ہیرا" کیوں قرار دیا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں مقیم سعودی سائنس داں ڈاکٹر غادہ مطلق المطیری کا کہنا ہے کہ اُن کے کیمیکل انجینئرنگ کی پروفیسر بننے کے پیچھے مرکزی طور پر اشتیاق اور تجسس کا ہاتھ ہے۔

امریکا میں کویتی طلبہ اتحاد کے فورم کے ساتھ خصوصی ملاقات میں غادہ نے بتایا کہ وہ امریکا میں پیدا ہوئیں اور جب سعودی عرب لوٹیں تو ان کے پاس امریکی شہریت تھی۔ غادہ نے جب یونی ورسٹی کی سطح پر تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تو داخلے کے وقت ان کو امریکی یونی ورسٹی میں تعلیم کے لیے اسکالر شپ مل گئی۔

غادہ نے اُس جاپانی محقق کے ساتھ اپنا قصہ بھی گوش گزار دیا جس نے غادہ کو "راکھ کے نیچے چھپا ہیرا" قرار دیا تھا۔ غادہ کے مطابق "جاپانیوں کے لیے میرے دل میں خاص مقام ہے۔ وہ ایک باشعور ، پُرعزم اور نفیس معاشرہ ہے"۔ انہوں نے مزید بتایا کہ "جاپانی سائنس داں نے جب مجھے اپنی تجربہ گاہ میں کام کرنے کا موقع فراہم کیا تو اُس وقت میں ریاضی کے شعبے سے کیمیاء کی تعلیم کی جانب آ گئی۔ اسی سائنس داں نے مجھے تحقیق کا مفہوم سکھایا"۔

غادہ نے نئی نسل کو مطالعہ کرنے اور علم سے محبت پیدا کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ "ہمیں اپنے بچوں کو ہر چیز میں سوچنے اور غور فکر کرنے کی اہمیت سکھانا چاہیے"۔

غادہ المطیری کیلیفورنیا یونی ورسٹی میں کام کرتی ہیں۔ سال 2012 میں امریکی کانگریس کی جانب سے منتخب کی جانے والی چار اہم ترین ایجادات میں غادہ کی بھی ایک ایجاد شامل تھی۔

یاد رہے کہ غادہ المطیری نے 2000 میں لاس اینجلس کی "آکسیڈینٹل" یونی ورسٹی سے کیمیاء میں گریجویشن کیا اور اس کے بعد کیلیفورنیا یونی ورسٹی سے "حیاتی کیمیاء" میں ماسٹرز مکمل کیا۔ انہوں نے 2005 میں کیمیکل انجینئرنگ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور پھر 2008 تک پوسٹ ڈاکٹریٹ تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ غادہ نے دس تحقیقی مقالے اور ایک کتاب بھی لکھی۔ اس کتاب کا امریکا ، جرمنی اور جاپان میں ترجمہ کیا گیا۔ انہوں نے کیلیفورنیا یونی ورسٹی میں پروفیسر کے طور پر کام بھی کیا۔ غادہ امریکا میں سائنسی تحقیق کو سپورٹ کرنے والی سب سے بڑی تنظیم "H.I.N" کی جانب سے سائنسی اختراع کا انعام بھی حاصل کر چکی ہیں۔