.

ریاض اور ابوظبی کے درمیان سفر 80 منٹ کا رہ جائے گا!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اگر یہ کہا جائے کہ ریاض سے ابو ظبی جانے والا مسافر طیارے میں سوار ہوئے بغیر 80 منٹ کے اندر اپنی منزل پر پہنچ گیا تو یہ یقینا ایک سائنس فِکشن فلم کا منظر یا پھر کسی خواب و خیال کی بات معلوم ہو گی!!! ..تاہم بین الاقوامی کمپنی "ہائپر لوپ ون" نے مستقبل کے نقل و حمل کے ایسے حقیقی تجربات کے آغاز کا اعلان کیا ہے جن کے ذریعے انسان طیاروں کی رفتار سے بھی تیز رفتاری سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو سکے گا اور یہ سفر اخراجات اور انتظار کی مدت کو بھی کم کر دے گا۔

عربی روزنامے "الحیات" کے مطابق کمپنی میں گلوبل آپریشنز کے فرسٹ ڈپٹی چیئرمین کا کہنا ہے کہ "یہ منصوبہ صنعتی مساوات میں ہر چیز کو بدل کر رکھ دے گا۔ خلیج تعاون کونسل کے ممالک میں گڈز ٹرانسپورٹ مارکیٹ کا حجم 2016 میں 35 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ اس حجم کے اندر ہائپر لوپ ون کمپنی کا حصہ تقریبا 12 ارب ڈالر ہے۔ ہائپر لوپ کمپنی خلیجی ممالک میں فضائی کارگو کے شعبے میں 100% (7 ارب ڈالر) ، خشکی کے راستے 22% (3 ارب ڈالر) اور سمندر کے راستے 13% (2 ارب ڈالر) مسابقت کا ارادہ رکھتی ہے"۔

کمپنی کے ذمے داران کے مطابق "ہائپر لوپ" نظام مستقبل میں کمپنیوں اور معاشروں پر نمایاں طور اثر انداز ہو گا جس کے تحت اخراجات میں تقریبا دو تہائی کمی ہو گی جب کہ رفتار میں تین گنا اضافہ ہو جائے گا۔ اس نظام کے نتیجے میں مشرق وسطی اور شمالی افریقا میں تقریبا 20 کروڑ نوجوانوں کو روزگار حاصل ہوگا۔

ہائپر لوپ کمپنی 2014 میں قائم ہوئی اور اس کا صدر دفتر امریکا کے شہر لاس اینجلس میں ہے۔ اس نظام کے ذریعے توقع ہے کہ ابو ظبی سے دبئی جانے والے مسافر کو 10 سے 20 منٹ کا وقت لگے گا جو کہ فی الوقت ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ ہے۔ خلیجی ممالک کے شہروں کے درمیان کوئی بھی سفر 90 منٹ سے زیادہ کا نہیں ہوگا۔

توقع ہے کہ مسافر ایک کیپسول میں سوار ہوں گے جس میں وہ کسی طرح بھی پھسل نہیں سکیں گے۔ یہ کیپسول ایک طاقت ور مقناطیسی فیلڈ کے اندر محیط ہوگا۔ اس کا عملی تجربہ گزشتہ مئی میں کیا جا چکا ہے۔ یہ منصوبہ ماحولیات کو صاف رکھنے والا ہے۔