.

’پھیپھڑے سانس کی سہولت کے ساتھ خون بھی پیدا کرتے ہیں‘

طب کی دنیا میں حیرت انگیز انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اب تک طبی سائنس کی دنیا میں یہ مشہور رہا ہے کہ پھیپھڑے صرف سانس لینے کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ بلا شبہ پھیپھڑے سانس لینے میں مدد دیتے ہیں مگر ان کی جسم میں اور بھی کئی ’فنکشن‘ ہیں۔ ممالیا اجسام میں پھیپھڑے ہماری سوچ سے بھی زیادہ پیچیدہ ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں۔

سائنسی جریدوں ’سائنس الرٹ‘ اور ’نیچر‘ میں شائع ہونے والی تحقیق کی تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ پھیپھڑے جسم میں خون پیدا کرنے کا بھی اہم ذریعہ ہیں۔

تازہ تحقیق چوہوں پرکیے گئے تجربات کا نتیجہ ہے۔ طبی ماہرین کی ٹیم کا کہنا ہے کہ انہوں نے خون کے نمونوں میں 1 کروڑ خونی پرتوں [شیٹس] کا پتا چلایا ہے۔ یہ خونی شیٹس ایک گھنٹے میں پیدا ہوتی ہیں۔ اس نئی تحقیق نے صدیوں سے چلے آ رہے اس روایتی نظریے کو بھی غلط ثابت کیا ہے میں کہا گیا ہے کہ ہڈیوں کا گودا اور ان کے جوڑ ہمارے اجسام میں خون پیدا کرنے کا ذریعہ ہیں۔ بلڈ اسٹیم خلیات کا مجموعہ اس سے قبل کبھی بھی مشہور نہیں ہوا۔ اس سے قبل یہ فرض کیا جاتا رہا ہے کہ ہڈیوں کے گودے میں اسٹیم سیلز غلطی سے پائے گئے ہیں۔

خون کی پیداوار کا کلیدی عامل

تحقیق میں شامل محقق مارک لونی کا کہنا ہے کہ اس نئے انکشاف نے پھیپھڑوں کے بارے میں اہم پیش رفت کو حقیقی معنوں میں ثابت کیا ہے۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ پھیپھڑے صرف سانس لینے کے عمل کا بنیادی حصہ نہیں بلکہ یہ جسم میں خون پیدا کرنے کا بھی کلیدی جزو ہیں۔

اس سے قبل سائنس دان یہ کہہ چکے ہیں کہ دونوں پھیپھڑے خونی پرتوں کی محدود مقدار پیدا کرتے ہیں۔ ماضی میں ان خلیات کو ماہرین کی طرف سے Megakarypctes کا نام دیا گیا تھا۔ طویل عرصے تک سائنس دان اس مفروضے پر یقین رکھتے تھے کہ جسم میں خون پیدا کرنے کے کلیدی خلیات ہڈیوں کے گودے میں پائے جاتے ہیں۔

ہڈیوں کے گودے کے ذریعے خون پیدا کرنے کے عمل کو haematopoiesis کا نام دیا گیا۔ یہ عمل جسم میں آکسیجن سے بھرپور سرخ خون کے خلیات پیداکرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سفید خون کے انفیکشن مخالف خلیات کی محدود مقدار بھی پیدا ہوتی ہے۔

اب سائنسدانوں نے مشاہدات اور تجربات سے ثابت کیا ہے کہ خلیات کے مرکزی گوشے کے نیکولس پھیپھڑوں کے باریک ریشوں میں بھی پائے جاتے ہیں جو جسم میں محدود نہیں بلکہ وسیع پیمانے پر خون کی شیٹس پیدا کرتے ہیں۔

جدید ٹیکنالوجی

پھیپھڑوں کی دوہری ذمہ داری کے بارے میں یہ اہم انکشاف جدید ٹیکنالوجی کا مرہون منت ہے۔ اس تحقیق کے نتائج کے حصول کے لیے زندہ خلیات کی تصویر کشی کرتے ہوئے ’فوٹون‘ یعنی ڈول امیجنگ‘ سسٹم کا استعمال کیا گیا۔

’ڈول امیجنگ‘ کی مدد سے تصویر انجکشن کے طریقہ کار سے لی گئی جسے سائنسی اصطلاح میں ’گرین فلورینسٹ پروٹین‘GFP‘ بھی کہا جاتا ہے۔

اس انجکشن کا استعمال چوہوں پر کیا کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں چوہوں کے خون میں سبز چمک ایک ہی وقت میں پوری جسم میں دوڑ گئی۔ اس کے نتیجے میں ماہرین کو خون کی پیداوار کے راستوں کا پتا چلا۔

امرض کے علاج میں ایک انقلاب

ماہرین کا خیال ہے کہ پھیپھڑوں کا جسم کے لیے خون پیدا کرنے کا انکشاف کوئی معمولی بات نہیں۔ اس حیرت انگیز انکشاف سے بیماریوں کے علاج کے طریقوں میں بھی ایک نیا انقلاب آسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس نئے انکشاف کے بعد پھیپھڑوں کی سوزش، انفیکشن، جریان خون اور اعضاء کی پیوند کاری جیسے علاج کے لیے مستقبل میں اہم پیش رفت ممکن ہے۔

اس تجربے سے پتا چلتا ہے کہ خونی شیٹس کی قلت کا شکار چوہوں کے پھیپھڑے میں انجکشن پروٹین فلورینسٹ پیدا کرتا ہے۔ یہ انجکشن خون میں ایک دھماکے کی شکل میں عمل کرتا ہے جس کے نتیجے میں خونی شیٹس کی تعداد میں تیزی کے ساتھ غیرمعمولی اضافہ ہوتا ہے۔ جسم کی قدرتی حالت بہتر ہوتی اور اس کے اثرات کئی ماہ تک برقرار رہتے ہیں۔

گرین گلورینسٹ خلیوں کی چمک کے تجربے میں یہ بات نوٹ کی گئی ہے کہ گرین فلورینسٹ دونوں پھیپھڑوں سے ہڈیوں کے گودے میں منتقل ہوتی ہے جو اگلے مرحلے میں خون پیداکرنے کا موجب بنتی ہے۔