.

ایکواڈور میں معذور شخص ملک کا صدر منتخب

نو منتخب صدر ’لینین مورینو‘ گذشتہ دو دہائیوں سے وہیل چیئر پرہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنوبی امریکا کے ملک جمہوریہ ایکواڈور میں جسمانی طور پر ایک معذور شخص حالیہ انتخابات میں ملک کا صدر منتخب ہوا ہے۔ دو دہائیوں سے وہیل چیئر پر چلنے والا لینن مورینو حال ہی میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں ملک کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ کسی معذور شخص کا صدارت کا منصب سنھبالنے کا یہ پوری دنیا میں انوکھا واقعہ ہے جس کی اور کہیں مثال نہیں ملتی۔ آئندہ ہفتے مورینو کی تاج پوشی کی جائے گی جس کے بعد وہ ملک کے صدر بن جائیں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 64 سالہ مورینو کو دو عشرے قبل ڈاکوؤں نے اس وقت گولیاں مار کر زخمی کردیا تھا جب وہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ ایک ہوٹل سے روٹی خرید رہے تھے۔ ڈاکوؤں کی فائرنگ سے مورینو کی دونوں ٹانگوں میں گہرے زخم آئے جس کے نتیجے میں اس کا دھڑ مفلوج ہو گیا تھا۔ اس کے بعد سے وہ مسلسل وہیل چیئر پرہیں۔

لینن مورینو ایک پرامید انسان ہیں اور مایوسی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں کے اندر سے بھی روشنی کی کرن تلاش کرنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ معذور ہونے کے بعد بھی انہوں نے امید سے وابستہ رہنے کے لیے 10 کتابیں تالیف کیں۔

معذور ہونے کے بعد انہیں اقوام متحدہ میں معذوروں کا سفیر مقرر کیا گیا۔ انہوں نے زندگی کی ہرگام پر امید سے اپنا تعلق جوڑے رکھا اور آج وہ ملک کے صدر بلکہ پوری دنیا میں واحد معذور صدر بن چکے ہیں۔

امریکا کے سابق صدر آنجہانی فرنکلین روز ویلٹ وہیل چیئر استعمال کرتے تھے۔ انہوں نے امریکا کی اس وقت قیادت کی جب امریکا بدترین کساد بازاری اور دوسری عالمی جنگ کا سامنا کررہا تھا۔

معذوروں کی عالمی تنظیموں نے لینن مورینو کو ایکواڈور کا صدر منتخب ہونے پر مبارک باد پیش کی ہے۔ مورینو گذشتہ اتوار کے روز ہونے والے صدارتی انتخابات میں معمولی برتی کے ساتھ ملک کے صدر منتخب ہوئے تھے۔

بائیں بازو کے سبکدوش ہونے والے صدر رافائل کوریا کے دور میں مورینو نے اپنی تمام تر توجہ معذوری کی بحالی کے اقدامات پر مرکوز رکھی۔ انہوں نے معذروں کی بحالی کے لیے ایک طبی مرکز قائم کیا اور ان کی دیگر ضروریات کی تکمیل کے لیے ہرممک سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق ایکوا ڈور میں 4 لاکھ افراد جسمانی، ذہنی یا دیگر عوارض، سماعت اور بصارت کا شکارہیں۔