.

امریکا میں نئے سعودی سفیر کون ہیں؟ جانئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شہزادہ خالد بن سلمان کو امریکا میں سعودی عرب کا نیا سفیر مقرر کیا گیا ہے۔ وہ شہزادہ عبداللہ بن فیصل بن ترکی کی جگہ لیں گے۔

شہزادہ خالد مملکت کے نائب ولی عہد اور وزیر دفاع شہزاہ محمد بن سلمان کے چھوٹے بھائی ہیں۔ انہوں نے امریکی ریاست مسیسی پی کی کولمبس ائر بیس سےہوابازی کی تربیت مکمل کی۔ وہ سعودی فضائیہ میں شامل جدید ترین لڑاکا F-15 کے ہواباز کے طور پر داعش کی بیخ کنی کے بنائے گئے بین الاقوامی اتحاد کے پلیٹ فارم سے یمن میں فضائی کارروائیوں میں شریک رہے ہیں۔

دو ہزار چودہ میں اس وقت کے سعودی ولی عہد اور موجودہ فرمانروا کے حوالے سے سعودی پریس ایجنسی نے ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ "میرے ہواباز بیٹوں نے دین، ملک اور اپنے فرمانروا کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں۔"

سعودی عرب نے امریکا، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور اردن کے ساتھ ملکر داعش کے خلاف متعدد فضائی کارروائیاں کی ہیں۔
نوجوان سعودی شہزادہ اکتوبر 2015 سے امریکا میں سفیر کے طور پر خدمات سرانجام دینے والے شہزادہ عبداللہ بن فیصل کی جگہ لیں گے۔

امریکا اور مملکت کے درمیان تعلق کی مضبوطی کے لئے سرگرم سعودی امریکن پبلک آفیئرز کمیٹی نے شہزادہ خالد کی واشنگٹن میں نئے سعودی سفیر کے طور پر تقرری کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ ان کی تقرری امریکا سعودی عرب تعلقات، امن ، استحکام اور خوشحالی میں اضافے کا باعث بنے گی۔

سعودی امریکی پبلک آفیئرز کمیٹی کے صدر اور سیاسی تجزیہ کار سلمان الانصاری کا کہنا ہے کہ شہزادہ خالد بہت منظم نوجوان اور سرگرم شخصیت ہیں۔"

واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ کے گلف انرجی پالیسی پروگرام کے ڈائریکٹرسیمن ہینڈرسن نے شہزادہ خالد کی تقرری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے نامزد سفیر دور جدید کے بندر بن سلطان ثابت ہوں گے۔ یاد رہے کہ بندر بن سلطان بھی ایک لڑاکا ہواباز تھے اور وہ دو دہائیوں تک سعودی عرب اور امریکاکے درمیان شاندار سفارتی تعلقات کی تاریخ لکھ چکے ہیں۔

تعلیم

شہزادہ خالد بن سلمان نے سعودی عرب کی شاہ فیصل ائر اکیڈیمی سے بیچلر آف ایرو سائنس کی ڈگری حاصل کی۔ بعد میں وہ اعلی تعلیم کے امریکا کی معروف درس گاہ ہاورڈ چلے گئے جہاں انہوں نے نیشنل اور انٹرنیشنل سیکیورٹی میں سینئر ایگزیکٹو سرٹیفکیٹ حاصل کیا۔ انہوں نے فرانس کے شہر پیرس سے ایڈوانس الیکٹرانک وارفیئر کی بھی تعلیم حاصل کی۔

انہوں نے جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے ایک گریجویٹ پروگرام میں داخلہ لیا جہاں وہ سیکیورٹی اسٹڈیز میں ایم اے کر رہے تھے۔ تاہم امریکا میں سعودی سفیر مقرر ہونے سے قبل انہیں ایک اہم حکومتی ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے کی وجہ سے تعلیم ادھوری چھوڑنا پڑی۔
فوجی کیئریر

شاہ فیصل ائر اکیڈیمی سے گریجویشن کا امتحان پاس کرنے کے بعد شہزادہ خالد نے مملکت کی شاہی فضائیہ میں شمولیت اختیار کرلی۔ انہوں نے اپنے پیشہ وارانہ سفر کا آغاز مسیسی پی کی کولمبس ائر فورس بیس ٹیکسن 6 اور ٹی-38 پر بطور پائیلٹ کیا۔

بعد ازاں انہوں نے ایف -15 ایس پروگرام میں بطور ہواباز شمولیت اختیار کی جہاں انہیں ایف پندرہ لڑاکا طیارہ اڑانے کے علاوہ ٹیکٹیکل انٹلیجنس آفیسر کی ذمہ داری سونپی گئی۔ یہ ذمہ داریاں وہ ظہران کی شاہ عبدالعزیز بیس پر تعینات 92 اسکواڈرن کے تھرڈ فلائی ونگ میں شمولیت کے وقت ادا کرتے رہے۔

ایک ہزار گھنٹوں سے زائد فلائنگ لائف کے حامل شہزادہ خالد نے داعش کے خلاف بین الاقوامی اتحاد کے متعدد فلائنگ مشن میں شرکت کی۔ انہوں نے یمن فیصلہ کن طوفان اور بحالی امید اپریشینز کے بھی متعدد فلائنگ مشنز میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحتیوں کا لوہا منوایا ہے۔

سعودی فضائیہ میں شہزادہ خالد کی خدمات کے اعتراف میں انہیں متعدد اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ انہوں نے اب تک آپریشن ساؤتھ فیلڈ میڈل، دی بیٹل فیلڈ میڈل، دی ورک مین شپ میڈل اور شمشیر عبداللہ ایکسرسائز میڈل حاصل کئے ہیں۔

امریکا کے لئے سعودی عرب کے نئے نامزد سفیر شہزادہ خالد نے امریکا اور سعودی عرب میں امریکی فوج کے ساتھ سخت فوجی تربیت حاصل کی ہے۔ وہ نویڈا کی نیلس ائر بیس پر بھی تربیت حاصل کر چکے ہیں۔ کمر میں چوٹ کی وجہ سے انہیں شوق پرواز سے محروم ہونا پڑا، جس کے بعد وہ وزیر خارجہ کے دفتر میں بطور آفیسر خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں۔

سپاہ گری کے بعد خدمات

شہزادہ خالد سعودی فوج میں خدمات انجام دہی کے بعد وزیر دفاع کے دفتر میں تعینات کئے گئے۔جہاں وہ جلد ہی سعودی وزارت دفاع کے سویلین مشیر مقرر ہو گئے۔

سنہ 2016 میں وہ امریکا چلے گئے جہاں انہوں نے واشنگٹن میں امریکی سفارتخانے کے مشیر کے طور پر خدمات سرانجام دیں۔
شہزادہ خالد 1945 کے بعد سعودی عرب کے امریکا میں دسویں سفیر ہوں گے۔