.

عراق: 3 سالہ "كرسٹینا" داعش کی کم عمر ترین باندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں بے گھر افراد کے کیمپوں کے باہر چالیس سے پچاس برس کے درمیان عمر والی خاتون " اُمِّ کرسٹینا" (کرسٹینا کی ماں) اپنی ننھی بچی کی بڑی سی تصویر ہاتھوں میں اٹھائے ایک خیمے سے دوسرے خیمے کے درمیان پریشانی کے عالم میں پھرتی ہے اور موصل سے نقل مکانی کر کے آنے والے افراد سے سوال کرتی ہے کہ آیا کسی نے اس بچی کسی کیمپ یا بے گھر افراد کے مجمعے میں دیکھا ہے۔

جولائی 2014 میں کرسٹینا کی ماں نے موصل کے قریب واقع قصبے قراقوش سے 70 ہزار مسیحی عراقیوں کے ساتھ راہِ فرار اختیار کی تو اس دوران داعش تنظیم کے ایک جنگجو نے اس خاتون کی بیٹی کو کاندھے سے اتار کر اغوا کر لیا جس کی عمر اُس وقت صرف 3 برس تھی۔

آج لاپتہ کرسٹینا کی عمر (اگر وہ ابھی تک زندہ ہے تو) چھ برس ہوچکی ہے جب کہ اُس کی ماں کردستان کے شہر اربیل میں قائم "بحرکہ کیمپ" میں مقیم ہے جہاں موصل کے اطراف واقع دیہات سے فرار ہونے والے ہزاروں مسیحی پناہ گزین رہ رہے ہیں۔

العربیہ نیوز چینل کے پروگرام "صناعۃ الموت" کی ٹیم نے کیمپ میں کرسٹینا کی ماں سے ملاقات کی۔ اس نے بتایا کہ "جب داعش تنظیم قراقوش میں داخل ہوئی تو وہاں کی اکثر آبادی نقل مکانی کر گئی تاہم کرسٹینا کا نابینا مریض باپ فرار ہونے پر قادر نہ تھا۔ لہذا میں نے اپنے بڑے بچوں کو قصبے کے لوگوں کے ساتھ بھاگ جانے کے لیے بھیج دیا جب کہ میں اپنے شوہر اور چھوٹی بیٹی کرسٹینا کے ساتھ گھر میں رہ گئی۔ میرا خیال تھا کہ اتنی چھوٹی بچی داعش کی بربریت کا نشانہ نہیں بنے گی۔ تنظیم کے جنگجوؤں نے آ کر بتایا کہ ہمیں اسلام قبول کرنا ہوگا یا پھر جزیہ ادا کرنا ہوگا اور یا اس علاقے سے کوچ کر جانا ہوگا۔ میں نے ان سے سوچنے کے لیے مہلت مانگ لی۔

اس مہلت کے خاتمے سے قبل میرا شوہر صحت یاب ہو گیا تو میں نے اس کو اور اپنی بیٹی کو لے کر علاقے سے فرار ہونے کا راستہ اپنایا مگر داعش کے جنگجوؤں نے ہمیں دیکھ لیا اور ان میں سے ایک نے میرے کاندھے پر سے بچی کو چھین کر اغوا کر لیا۔ میں نے واپس آ کر قراقوش میں داعش کے تیونسی امیر سے ملاقات کا فیصلہ کیا۔ جب میں اس کے پاس پہنچی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ اُس نے کرسٹینا کو اپنے گھٹنوں پر بٹھایا ہوا ہے۔ میں نے روتے ہوئے اس سے اپنی بیٹی کی واپسی کی درخواست کی۔ تاہم اس امیر نے کوئی جواب نہیں دیا اور ایک جنگجو کو اشارہ کیا کہ وہ مجھے باہر لے جائے۔ اس مسلح جنگجو نے مجھ سے کہا کہ میں اگر ایک دن بھی اس قصبے میں رہی تو میری گردن اڑا دی جائے گی۔ اس پر میں کٹے کلیجے کے ساتھ اپنے شوہر کو لے کر وہاں سے نکل آئی"۔

گزشتہ 3 برسوں کے دوران کرسٹینا کی ماں نے قراقوش میں رہ جانے والے مقامی لوگوں کی وساطت سے اپنی بیٹی کی واپسی کے لیے داعش کے جنگجوؤں کے ساتھ کئی مرتبہ مذاکرات کیے مگر ہر مرتبہ جواب انکار کی صورت میں آیا۔ البتہ وساطت کاروں کے ذریعے کرسٹینا کی تازہ تصویر مل جاتی جس میں وہ زندہ سلامت اور اچھی حالت میں دکھائی دیتی۔

بظاہر کوئی وجہ نظر نہیں آتی جس کے سبب قراقوش میں داعش تنظیم کے امیر نے اس بچی کو پکڑ رکھا ہے.. وہ اس عمر سے کم ہے کہ اسے باندی بنایا جائے اگرچہ بعض خوف ناک انکشافات اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ تنظیم کے جنگجوؤں کے نزدیک جنسی تعلق قائم کرنے کے لیے کم از کم عمر کی کوئی حد نہیں ہے۔ لڑکیوں کی عمر کے حوالے سے وہ نو سال کی لڑکی کی شادی کے جواز کے قائل ہیں اور کم عمر بچوں کے ساتھ ضمیر کی شرمندگی کے بغیر مختلف طریقوں سے جنسی تعلق قائم کر سکتے ہیں۔

علاوہ ازیں بعض سادہ سی توجیہات کے طور پر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ داعش کے مذکورہ امیر یا کسی جنگجو نے اس بچی کو گود لینے کا فیصلہ کر لیا تاکہ داعش کی سخت گیر منطق کے مطابق یہ بچی کسی "کافر" گھرانے میں پروان نہ چڑھے اور "دوزخ" سے بچ جائے۔

بہر کیف "کرسٹینا کی ماں" ان تمام ممکنہ وجوہات کو اپنے سینے میں چھپے آنسو اور غم کے ساتھ سنتی ہے۔ وہ روازنہ دعا کرتی ہے کہ خداوند تعالی ایک مرتبہ پھر اس کو اپنی بیٹی سے ملا دے۔ اس واسطے وہ ہر ہفتے اپنی بیٹی کی تصویر اٹھائے بے گھر افراد کے کیمپوں میں پِھر کر دسیوں کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے خود کو تھکاتی ہے۔

کرسٹینا کی بے قرار ماں نے العربیہ کی ٹیم کو کرسٹینا کے کپڑے اور کھلونے نکال کر دکھائے۔ ان میں بعض کپڑے 3 برس کی عمر کی بچی کے لیے بڑے معلوم ہو رہے تھے۔ اس حوالے سے کرسٹینا کی ماں نے بتایا کہ " جب بھی مخیر حضرات کیمپ میں کپڑے تقیسم کرتے ہیں تو میں کرسٹینا کی بڑھتی عمر کے لحاظ سے اس کے حجم کا تصور کرتی ہوں اور اس کی موجودہ عمر کے لحاظ سے اس کے واسطے کپڑے چھانٹ لیتی ہوں.. کیوں کہ مجھے پورا یقین ہے کہ کرسٹینا ایک روز ان کپڑوں کو ضرور استعمال کرے گی"۔