.

شاہ عبدالعزیز کے خطوط میں غرباء اور حاجت مندوں کے لیے فکر مندی کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے مرحوم شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمان الفیصل کی تقریروں میں ہمیشہ غریبوں اور حاجت مندوں کا تذکرہ ہوتا تھا۔وہ تمام شہریوں کی فلاح وبہبود اور سماجی بھلائی میں گہری دلچسپی لیتے تھے اور اس سے معاشرے کی ترقی میں مثبت اثرات مرتب ہوئے تھے۔

شاہ عبدالعزیز کے پیغامات اور تقاریر کے بہت سے مقاصد اور اہداف ہوتے تھے لیکن ان سب کی قدر مشترک ایک ہی ہوتی تھی اور وہ یہ کہ وہ ضرورت مند شہریوں کے بارے میں ان کی حکمت عملی کے عملی اطلاق ،توجہ اور ہمدردی کے عکاس ہوتے تھے۔

سعودی فرمانروا ضرورت مندوں کی امداد میں کس انداز میں گہری دلچسپی لیتے تھے ، اس کا اندازہ ان کے 2 اکتوبر 1942ء کو لکھے گئے ایک خط سے کیا جاسکتا ہے۔اس میں وہ غرباء کی امداد کے لیے ایک ہزار ریال بھیجنے کی اطلاع دیتے ہیں۔انھوں نے لکھا :’’ میں نے عبداللہ الخالد السیلم اور شیخ عبدالرحمان بن عودان کو اس رقم کو سب سے زیادہ ضرورت مند افراد میں تقسیم کرنے کی ہدایت کی ہے‘‘۔

شاہ عبدالعزیز نے 7 اکتوبر 1946ء کو لکھے گئے ایک خط میں اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ حاجت مندوں کو امدا د مہیا کرنے کا عمل براہ راست ریاست کی نگرانی میں پایہ تکمیل کو پہنچنا چاہیے اور جو لوگ مکمل دیانت داری اور نیک نیتی سے یہ کام کرتے ہیں،ان کی بھی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔

غرباء کے حج اخراجات

مزید برآں شاہ عبدالعزیز غریب شہریوں کے حج اخراجات بھی برداشت کیا کرتے تھے۔وہ حج کے تمام عمل اور اس دوران میں مہیا کی جانے والی خدمات کی خود نگرانی کیا کرتے تھے۔ وہ بہ ذات خود حج پر جانے کے بجائے غریبوں میں حج اخراجات کے لیے رقم کی تقسیم کو ترجیح دیتے تھے۔23 نومبر 1941ء کو لکھے گئے ایک خط میں بھی اس کا ثبوت فراہم ہوتا ہے۔

مرحوم شاہ کی تقاریر اور خطوط سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ وہ قیدیوں کا خیال رکھا کرتے تھے اور ان کے ذمے جرمانے یا قرض کی رقم ادا کردیا کرتے تھے۔وہ اپنے خطوط میں متعلقہ حکام کواپنے احکامات پر بلا تاخیر عمل درآمد کی ہدایات دیتے تھے۔بالخصوص رمضان المبارک میں اپنے احکام کی بجاآوری کو یقینی بنایا کرتے تھے۔

وہ یتیموں اور ضعیف العمر افراد کا ہمیشہ خیال رکھتے تھے اور ان کی نگہداشت ،انھیں خوراک اور دوسرا امدادی سامان مہیا کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتے تھے۔

سماجی محقق عادل الصالح بتاتے ہیں:’’ شاہ عبدالعزیز مسافروں ،نوجوانوں اور طلبہ کی بھی مدد کیا کرتے تھے۔آج ہمیں جو بہت سے سماجی ادارے نظر آتے ہیں ،یہ سب شاہ عبدالعزیز کے دور سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔ ممکن ہے ،ان کی ہیئت یا کام کا طریق کار اب تبدیل ہوگیا ہو لیکن ان کے مقاصد وہی ہیں‘‘۔