.

حاکم دبئی سے اعزاز و اکرام پانے والی مراکشی ’امید ساز‘ کون؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جمعرات کو متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیراعظم اور حاکم دبئی الشیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے ان پانچ خوش قسمت عرب شخصیات کا اعلان کیا جنہیں عرب دنیا میں ان کی فلاحی خدمات کے اعتراف میں ’امید ساز‘ شخصیات کے طور پر چنا گیا تھا۔ ان میں افریقی عرب ملک مراکش سے تعلق رکھنے والی ایک تیس سالہ نوال الصوفی بھی شامل تھیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حاکم دبئی کی جانب سے ’ایک ملین کی جاب‘ کے عنوان سے عرب دنیا میں مایوسی کے اندھیروں کو امید کی روشنی میں بدلنے والوں کے اکرام کے لیے منفرد پروگرام شروع کیا گیا۔ عرب دنیا میں امید نو پیدا کرنے والی شخصیات کے مقابلے میں 22 عرب ملکوں سے 65 ہزار شخصیات نے حصہ لیا۔

انہی میں ایک نام نوال الصوفی کا ہے۔ 30 سالہ نوال الصوفی کا آبائی تعلق مراکش سے ہے جب کہ وہ اس وقت اٹلی میں مقیم ہیں۔ وہ کئی سال سے موت کی وادیوں سے گذر کر یورپ کی سرزمین پر پہنچنے والے عرب پناہ گزینوں کے لٹے پٹے قافلوں اور ان میں شامل بے یارو مدد گار پناہ گزینوں کی مدد میں مصروف عمل ہیں۔ الصوفی نے دو لاکھ پناہ گزینوں کو یقینی موت کے منہ سے بچایا اور انہیں نئی زندگی عطا کرنے میں ان کی مدد کی۔ یہی وجہ ہے کہ حاکم دبئی کی طرف سے انہیں عرب دنیا کی ان پانچ امید ساز شخصیات میں شامل کرکے ان کے لیے اعزاز واکرام کا اعلان کیا۔

نوال الصوفی نے 14 سال کی عمر میں اٹلی میں آنے والے مراکشی تارکین وطن کی مشکلات میں ان کی معاونت شروع کی۔ انہوں نے نہ صرف مراکش اور دوسرے عرب ملکوں کے باشندوں کی مشکلات کم کیں بلکہ مسئلہ فلسطین کو بھی اجاگر کیا۔

سیاسیات اور تعلقات عامہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والی نوال الصوفی جیلوں میں ڈالے گئے مہاجرین کی مشکلات کم کرنے میں سرگرم عمل رہی ہیں۔

شام میں تحریک انقلاب کے بعد نوال الصوفی نے اپنی خدمات کو جنگ زدہ شامی شہریوں کے لیے وقف کردیا۔ وہ ترکی کے راستے شام میں جنگ زدہ شہریوں تک ادویات پہنچاتی رہیں۔ انہوں نے جنگ سے تباہ حال شہروں حمص اور حلب میں کئی طبی امداد قافلے بھی روانہ کیے۔

نوال الصوفی کی انہی خدمات کے اعتراف میں حاکم دبئی کی نظر انتخاب اس پر پڑی اور انہیں ’امید ساز‘ شخصیات میں شامل کرکے ان کی خدمات کا عملی اعتراف کیا۔ اس مقابلے میں چنے گئے پانچ امید ساز عرب شہریوں کو فی کس ایک ملین ریال کا انعام دیا گیا۔